
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ امریکی سفیر کے متنازع بیان کے بعد، اب اسرائیل کے مرکزی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ (Yair Lapid) نے بھی خطے میں اسرائیل کے وسیع تر قبضے کی کھلی حمایت کر دی ہے، جس کے تحت مبینہ طور پر اسرائیل کی سرحدیں عراق تک پھیلانے کا نظریہ پیش کیا گیا ہے۔
صیہونی اور بائبلی بنیادوں کا حوالہ پیر کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، یائر لیپڈ نے واضح کیا کہ خطے میں اسرائیلی توسیع پسندی کے حوالے سے ان کے خیالات صیہونی اور بائبلی (مذہبی) بنیادوں پر استوار ہیں۔
مقامی خبر رساں ادارے ‘کیپا نیوز’ کے مطابق لیپڈ نے کہا، "میں ہر اس اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہوں جو یہودیوں کو ایک بڑی، وسیع اور مضبوط سرزمین دے کر ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کرے۔”
انہوں نے مزید کہا، "صیہونیت کی بنیاد بائبل پر ہے۔ سرزمینِ اسرائیل پر ہمارا مینڈیٹ بائبلی ہے، اور اسرائیل کی بائبلی سرحدیں بالکل واضح ہیں… اس لیے ہماری سرحدیں وہی ہیں جو بائبل میں بتائی گئی ہیں۔” تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ اس وسیع منصوبے پر عمل درآمد میں "اسرائیلی سلامتی اور پالیسی کے کچھ تحفظات” رکاوٹ بن سکتے ہیں، جن کی انہوں نے مزید وضاحت نہیں کی۔
امریکی سفیر کا متنازع بیان اور خطے میں تشویش واضح رہے کہ یائر لیپڈ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں اسرائیل کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی (Mike Huckabee) نے بھی ایک انٹرویو میں مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے حصے پر اسرائیلی کنٹرول کی حمایت کی تھی۔ ہکابی کے اس بیان نے خطے میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، اور عرب ممالک نے امریکی محکمہ خارجہ سے اس مؤقف کی فوری سفارتی وضاحت طلب کی ہے۔

مائیک ہکابی، جو خود کو فخر سے ایک ‘مسیحی صیہونی’ (Christian Zionist) اور اسرائیل کا کٹر حامی قرار دیتے ہیں، سے ایک انٹرویو میں سوال کیا گیا تھا۔ سوال یہ تھا کہ کیا جدید اسرائیلی ریاست کو دریائے فرات (عراق) سے لے کر دریائے نیل (مصر) تک کے اس تمام علاقے پر دعویٰ کرنے کا حق ہے، جس کا بائبل میں ذکر ہے؟
اس پر ہکابی نے انتہائی متنازع جواب دیتے ہوئے کہا، "اگر وہ یہ سب کچھ لے لیں تو یہ بالکل ٹھیک ہوگا۔” یاد رہے کہ اس بتائی گئی وسیع سرحدی پٹی میں موجودہ لبنان، شام، اردن اور یہاں تک کہ سعودی عرب کے کچھ حصے بھی شامل ہوتے ہیں۔
سعودی عرب کا سخت ردعمل اور امریکی دفاع سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر کے اس بیان کو "انتہا پسندانہ بیان بازی” اور "ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے امریکہ سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

بڑھتے ہوئے سفارتی دباؤ کے بعد، اتوار کے روز امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے ہکابی کے دفاع میں کہا کہ ان کے بیان کو "سیاق و سباق سے ہٹ کر” پیش کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا کہ اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
اہم پس منظر: ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2024 میں بطور سفیر نامزد کیے گئے مائیک ہکابی ایک طویل عرصے سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ‘دو ریاستی حل’ (Two-State Solution) کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے پر غیر قانونی اسرائیلی قبضے کے وجود سے بھی انکاری رہے ہیں۔



