
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکہ کے ساتھ ہونے والے انتہائی اہم جوہری مذاکرات کے تیسرے دور سے عین قبل، ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے حق میں نہیں ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کے روز عالمی برادری کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
سپریم لیڈر کا فتویٰ اور ایٹمی ہتھیاروں کی ممانعت برطانوی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (Weapons of Mass Destruction) کے خلاف باقاعدہ فتویٰ جاری کر رکھا ہے۔ صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ اس فتوے کا "حتمی اور دوٹوک مطلب یہ ہے کہ تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔”

امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور پرانے الزامات ایرانی صدر کی جانب سے یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری تنازعے پر بالواسطہ مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہونے جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ واشنگٹن مسلسل تہران پر یہ الزام عائد کرتا آ رہا ہے کہ وہ خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایران ہمیشہ ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
ایرانی صدر Masoud Pezeshkian (مسعود پزشکیان) نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei (آیت اللہ علی خامنہ ای) نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کو حرام قرار دیتے ہوئے فتویٰ جاری کر رکھا ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تہران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

پس منظر اور فتوے کی تاریخی اہمیت ایران کے ریاستی اور حکومتی ڈھانچے میں، ملک کے ایٹمی پروگرام سمیت تمام اہم اسٹریٹجک فیصلوں کا حتمی اختیار سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس ہے۔ انہوں نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں ایک تاریخی فتویٰ جاری کیا تھا جس میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو سختی سے منع قرار دیا گیا تھا۔
دفاعی اور سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں موجودہ غیر معمولی کشیدگی اور خلیج میں امریکی افواج کے حالیہ اجتماع کے سائے میں، ایرانی صدر کا یہ بیان دراصل مذاکرات کی میز پر اپنا پرامن مؤقف مضبوط کرنے اور عالمی برادری کو اعتماد میں لینے کی ایک اہم سفارتی کوشش ہے۔



