
تازہ حالات رپورٹ
امریکا کے سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بریفنگ ایسے وقت میں ہوئی جب ٹرمپ انتظامیہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر جنیوا میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں مصروف تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی آپشنز پر یہ بریفنگ جوہری مذاکرات کے اختتام کے بعد دی گئی۔
سفارت کاری اور طاقت کا توازن
مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک جانب سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب فوجی تیاریوں کو بھی نظرانداز نہیں کر رہا۔ حالیہ ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں طیارہ بردار بحری بیڑے، جدید لڑاکا طیارے اور میزائل دفاعی نظام شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بریفنگ دینا معمول کی عسکری مشق کا حصہ ہوتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں اسے ایران کے لیے واضح پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے کہ امریکا تمام آپشنز میز پر رکھے ہوئے ہے۔
مذاکرات کا مستقبل
جنیوا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بارے میں سرکاری سطح پر محدود معلومات سامنے آئی ہیں، تاہم دونوں فریقین کے درمیان اختلافات بدستور موجود بتائے جاتے ہیں، خصوصاً یورینیم افزودگی اور پابندیوں کے خاتمے کے طریقہ کار پر۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن خطے کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو فوجی دباؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
فی الحال واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔



