ایرانتازہ ترین

امریکا ایران میں جنگ کا وقت شروع ؟

امریکا نے اسرائیل جنگی جہاز بھیج دیے ، سفارتی عملہ نکال لیا

(واشنگٹن / یروشلم — تازہ حالات خصوصی رپورٹ)امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں غیر معمولی فوجی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ اسرائیل میں سفارتی اور شہری حفاظتی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ کے بیس سے زائد ایئر ریفیوئلنگ ٹینکر طیارے اسرائیل پہنچے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے طیارے عام طور پر طویل فاصلے کے آپریشنز میں جنگی طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، تاہم ان کی تعیناتی کی نوعیت کے بارے میں امریکی حکام نے باضابطہ تفصیل جاری نہیں کی۔

اسی دوران امریکی بحری بیڑے USS Gerald R. Ford کی خطے میں موجودگی بھی رپورٹ کی گئی ہے۔ یہ بحری بیڑہ جدید ترین امریکی طیارہ بردار جہازوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہزاروں اہلکار اور درجنوں جنگی طیارے تعینات ہوتے ہیں۔ امریکی حکام عمومی طور پر ایسی تعیناتیوں کو خطے میں استحکام اور دفاعی تیاری کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

سفارتی عملے اور شہریوں کے لیے ہدایات

امریکی محکمہ خارجہ نے اسرائیل میں تعینات اپنے عملے کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی ہیں، جبکہ امریکی شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ہدایات میں غیر ضروری سفر سے گریز اور محفوظ مقامات کے قریب رہنے کی سفارش شامل ہے۔

کینیڈا نے بھی اپنے شہریوں کو اسرائیل میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر احتیاط برتنے اور حالات کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض امریکی اور یورپی ایئرلائنز نے اسرائیل کے لیے پروازوں میں عارضی ردوبدل یا معطلی کا اعلان کیا ہے۔

مذاکرات اور علاقائی تناؤ

اسرائیلی میڈیا میں شائع رپورٹس کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث سفارتی تناؤ برقرار ہے۔ تاہم کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔

امریکی صدر اور اعلیٰ فوجی حکام کے درمیان حالیہ ملاقاتوں کو دفاعی بریفنگز کا معمول کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ بعض مبصرین اسے خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

تجزیہ: کیا صورتحال جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟

دفاعی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں فوجی نقل و حرکت اور سفری انتباہات کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں، تاہم انہیں فوری جنگ کا حتمی اشارہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور سفارتی کوششوں کا مستقبل آنے والے دنوں میں واضح ہو سکتا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button