
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک، سعودی عرب نے اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا اور انقلابی باب رقم کر دیا ہے۔ جس شیل گیس (Shale Gas) ٹیکنالوجی نے امریکا کو دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک بنایا تھا، اب وہی ٹیکنالوجی جزیرہ نما عرب کے تپتے صحراؤں میں استعمال کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ‘آرامکو’ (Aramco) نے شمالی امریکہ کے بعد دنیا کے سب سے بڑے شیل گیس فیلڈ ‘الجافورہ’ (Jafurah) سے گیس کی باقاعدہ پیداوار شروع کر دی ہے۔ اس 100 ارب ڈالر کے دیو ہیکل منصوبے کا بنیادی مقصد عالمی قدرتی گیس کی مارکیٹ میں سعودی عرب کو ایک اہم کھلاڑی بنانا ہے۔
الجافورہ پراجیکٹ: اربوں ڈالر کے ذخائر الجافورہ گیس فیلڈ سعودی عرب کے مشہور غوار (Ghawar) آئل فیلڈ کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیلڈ میں تقریباً 229 ٹریلین کیوبک فٹ قدرتی گیس اور 75 ارب بیرل کنڈنسیٹ (Condensate) کے ذخائر موجود ہیں۔ آرامکو کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک گیس فیلڈ نہیں ہے، بلکہ توانائی، مصنوعی ذہانت (AI) اور پیٹرو کیمیکلز جیسی بڑی صنعتوں کی ترقی کے لیے ایک اسٹریٹجک پلیٹ فارم ہے۔
امریکی اور چینی ٹیکنالوجی کا صحرا میں استعمال اس مشکل اور پیچیدہ منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے آرامکو نے ہیلی برٹن (امریکا) اور سائنو پیک (چین) جیسی بڑی عالمی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔ صحرائی ماحول میں ڈرلنگ کو تیز تر بنانے کے لیے ‘موبائل ڈرلنگ رگس’ (Mobile Drilling Rigs) استعمال کی جا رہی ہیں، جنہیں پرزے کیے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، صحرائی حالات اور سخت چٹانوں کو کاٹنے کے لیے ہائی پاور ڈائمنڈ ڈرل بٹس (Diamond drill bits) اور سمندری پانی کو صاف کر کے استعمال کرنے جیسی جدید ٹیکنالوجیز متعارف کرائی گئی ہیں۔
معاشی فوائد: قیمتی خام تیل کی بچت اس منصوبے کی سب سے بڑی وجہ معاشی ہے۔ دہائیوں سے سعودی عرب اپنی مقامی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیرل قیمتی خام تیل جلاتا آ رہا ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ‘ویژن 2030’ کے تحت، حکومت کی کوشش ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے تیل کے بجائے گیس کا استعمال کیا جائے۔

اس منصوبے کی تکمیل سے سعودی عرب روزانہ 5 لاکھ بیرل خام تیل بچا کر اسے بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمد کر سکے گا۔ موجودہ قیمتوں (تقریباً 70 ڈالر فی بیرل) کے حساب سے، یہ بچت سعودی معیشت کو سالانہ 12.8 ارب ڈالر کا اضافی ریونیو فراہم کرے گی۔ آرامکو کو توقع ہے کہ 2030 تک گیس کی اس توسیع سے کمپنی کو 12 سے 15 ارب ڈالر کا اضافی کیش فلو حاصل ہوگا۔
خطے میں گیس کی دوڑ اور عالمی مسابقت سعودی عرب کی جانب سے گیس سیکٹر میں یہ بڑی سرمایہ کاری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے کے دیگر ممالک بالخصوص قطر اور متحدہ عرب امارات (ADNOC) بھی گیس کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں۔ قطر اس وقت مائع قدرتی گیس (LNG) کے شعبے میں عالمی لیڈر ہے اور اپنی پیداواری صلاحیت 77 ملین ٹن سے بڑھا کر 142 ملین ٹن سالانہ کرنے پر کام کر رہا ہے۔ دوسری جانب، آرامکو کا طویل مدتی ہدف 20 ملین ٹن سالانہ ایل این جی کی پیداوار تک پہنچنا ہے۔
خلاصہ رپورٹ سعودی عرب کا الجافورہ پراجیکٹ محض توانائی کے حصول کا منصوبہ نہیں، بلکہ یہ ملکی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر متنوع بنانے (Diversification) کی ایک عملی اور بڑی کوشش ہے۔ اس سے نہ صرف سعودی عرب کے برآمدی حجم میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ اسے عالمی گیس مارکیٹ کا ایک نیا پاور ہاؤس بھی بنا دے گا۔



