
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کے گہرے ہوتے بادلوں کے درمیان ایک انتہائی تشویشناک پیشرفت سامنے آئی ہے۔ اسرائیل کا سب سے بڑا اور مصروف ترین سفری مرکز، ‘بن گوریون ایئرپورٹ’ (تل ابیب) بظاہر ایک غیر علانیہ امریکی فوجی اڈے کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔
حال ہی میں ایک مسافر کی جانب سے بنائی گئی چشم کشا ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے، جس میں تل ابیب ایئرپورٹ کے رن وے پر درجنوں جدید امریکی ری فیولنگ (ہوا میں ایندھن بھرنے والے) طیاروں کو کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، ان طیاروں کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی کسی بڑے اور طویل فاصلے کے عسکری آپریشن کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔
ہوا میں ایندھن بھرنے والے طیاروں کی تکنیکی اہمیت ویڈیو میں نظر آنے والے طیاروں میں بنیادی طور پر ‘کے سی-46’ (KC-46) اور ‘کے سی-135’ (KC-135) شامل ہیں۔ معلوماتی زاویے سے دیکھا جائے تو:
- KC-135 طیارے: امریکی فضائیہ کے پاس اس وقت ایسے تقریباً 400 طیارے موجود ہیں، جن کی اوسط عمر 60 سال کے قریب ہے۔ یہ طیارے بوئنگ 367-80 پلیٹ فارم پر تیار کیے گئے تھے، جو کہ مشہور سویلین طیارے B707 کی بھی بنیاد ہے۔
- KC-46 طیارے: یہ امریکی فضائی بیڑے میں شامل ہونے والے جدید ترین ری فیولنگ طیارے ہیں جو 2019 میں سروس میں آئے۔ بوئنگ 767 کے ماڈل پر بنائے گئے ان جدید طیاروں کی تعداد امریکی فضائیہ میں 100 کے قریب ہے۔
ایران پر حملے کی تیاری؟ مشرق وسطیٰ میں غیر معمولی فوجی بلڈ اپ یہ پیشرفت محض اسرائیل کے ایئرپورٹ تک محدود نہیں ہے۔ بین الاقوامی دفاعی ذرائع اور رپورٹس کے مطابق، ایران پر ممکنہ مشترکہ اسٹرائیک (حملے) کی تیاریوں کے پیشِ نظر، امریکا اور اسرائیل نے مشرق وسطیٰ بھر میں 500 سے زائد جنگی اور 200 کے قریب اسسٹنس (امداد فراہم کرنے والے) طیارے تعینات کر دیے ہیں۔

اس غیر معمولی اور بڑے عسکری اجتماع (Military Buildup) میں درج ذیل خطرناک جنگی اثاثے شامل ہیں:
- پانچویں نسل کے طیارے: تقریباً 100 جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر جیٹس، جن میں F-22 ریپٹر اور F-35 شامل ہیں۔
- ایئر ری فیولنگ: ہوا میں جنگی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے والے 100 کے قریب ٹینکرز۔
- فضائی نگرانی (AWACS): تقریباً 20 اواکس طیارے، جو سینکڑوں کلومیٹر دور سے دشمن کی نقل و حرکت مانیٹر کرنے اور قبل از وقت وارننگ کا کام کرتے ہیں۔
- الیکٹرانک وارفیئر: برقیاتی جنگ اور دشمن کے ریڈار جام کرنے والے 18 خصوصی طیارے۔
- جاسوس طیارے: درجنوں ریکیناسنس (Reconnaissance) اور اسپیشل مشن طیارے۔
- بحری طاقت: امریکی بحریہ کے متعدد ڈسٹرائرز (تباہ کن جنگی جہاز) اور طیارہ بردار جہازوں کے کیریئر ایئر ونگز۔

تجزیاتی پہلو بین الاقوامی مبصرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اتنے بڑے پیمانے پر اسٹریٹجک جنگی اثاثوں کی منتقلی محض کوئی معمول کی مشق نہیں ہے۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ خطے میں ایک بڑی اور تباہ کن جنگ کے خطرات حقیقت کا روپ دھارتے جا رہے ہیں، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن و معیشت کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔



