اسرائیلتازہ ترین

امریکی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی دھماکہ! ٹرمپ نے روس اور سعودی عرب کی چھٹی کر دی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): امریکی محکمہ توانائی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکرٹری رائٹ کی قیادت میں حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، امریکہ اب توانائی کے شعبے میں ایک نئے ‘سنہری دور’ میں داخل ہو چکا ہے، جس نے ملکی پیداوار کے تمام پچھلے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور عوام کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے معیار کے مطابق مرتب کی گئی اس رپورٹ کے اہم ترین خدوخال درج ذیل ہیں:

تیل اور گیس کی ریکارڈ پیداوار (روس اور سعودی عرب بھی پیچھے) رپورٹ کے ہوشربا اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ نے توانائی کی پیداوار میں عالمی سطح پر اپنی بالادستی قائم کر لی ہے:

  • سال 2025 میں امریکی خام تیل کی پیداوار 1.36 کروڑ (13.6 ملین) بیرل یومیہ کی بلند ترین اور تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔
  • اس وقت امریکہ تیل اور مائع ایندھن کی مد میں روزانہ 2.4 کروڑ (24 ملین) بیرل پیدا کر رہا ہے۔ یہ مقدار عالمی توانائی کے دو بڑے کھلاڑیوں—یعنی روس اور سعودی عرب—کی مجموعی پیداوار سے بھی زیادہ ہے۔
  • قدرتی گیس کے میدان میں بھی امریکہ نے روس، ایران اور چین کی مجموعی پیداوار کے لگ بھگ مساوی یعنی 110 ارب کیوبک فٹ یومیہ پیداوار کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔

عوام کے لیے ریلیف اور پیٹرول کی قیمتوں میں تاریخی کمی ٹرمپ انتظامیہ کی ان پالیسیوں کی بدولت امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں گزشتہ پانچ سالوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں اور ان میں مزید کمی کا رجحان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، توقع ہے کہ 2026 میں امریکی شہری پیٹرول کی مد میں مجموعی طور پر 11 ارب ڈالر کی خطیر رقم بچائیں گے۔ ایک اوسط امریکی گھرانے کا پیٹرول کا سالانہ خرچ 2022 کے 2,716 ڈالر سے کم ہو کر اب 2,083 ڈالر تک آ گیا ہے۔ اس کے علاوہ مٹی کے تیل، لکڑی، ہیٹنگ آئل اور پروپین گیس کی قیمتوں میں بھی واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ایل این جی (LNG) پر پابندی کا خاتمہ اور اسٹریٹجک ذخائر کی بحالی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقتدار سنبھالتے ہی صدر ٹرمپ نے پہلے ہی دن بائیڈن دور کی مائع قدرتی گیس (LNG) کی برآمدات پر عائد پابندی کو ختم کرنے کا حکم دیا۔ اس اقدام کا مقصد مقامی معیشت کو فروغ دینا اور عالمی منڈیوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ مزید برآں، ‘ورکنگ فیملیز ٹیکس کٹ’ بل کی منظوری کے بعد امریکی حکومت اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) کو دوبارہ بھرنے اور بحال کرنے کے عمل پر تیزی سے کام کر رہی ہے، جس کے بارے میں موجودہ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اسے پچھلی حکومت نے سیاسی مقاصد کے لیے خالی کیا تھا۔

سرکاری پابندیوں (Red Tape) کا خاتمہ مئی 2025 میں امریکی محکمہ توانائی نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ‘ڈی ریگولیشن’ (پابندیوں کے خاتمے کا) اقدام اٹھایا۔ 47 ایسی غیر ضروری حکومتی شرائط کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی جن کی وجہ سے اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔ صرف اس ایک قدم سے امریکی عوام کو مزید 11 ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔ اسی سلسلے میں الیکٹرک موٹرز، چھت والے پنکھوں اور دیگر الیکٹرانک آلات پر عائد سخت شرائط واپس لے لی گئی ہیں، تاکہ صارفین کو سستی اور بہتر اشیاء تک رسائی مل سکے۔

عالمی سیاست پر اثرات (تجزیاتی پہلو) دفاعی اور معاشی ماہرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے تیل اور گیس کی اس بے پناہ پیداوار نے نہ صرف امریکی معیشت کو سنبھالا دیا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ اور تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک (OPEC) کے عالمی مارکیٹ پر غلبے کو بھی ایک سخت چیلنج پیش کر دیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button