
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے پر امریکی عوام کی رائے میں ایک تاریخی اور غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ دہائیوں تک اسرائیل کی غیر متزلزل حمایت کرنے والے امریکی عوام کی ہمدردیاں اب تیزی سے فلسطینیوں کی جانب منتقل ہو رہی ہیں۔
معروف عالمی سروے ادارے ‘گیلپ’ (Gallup) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، امریکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے والوں کی تعداد نے اسرائیل کے حامیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر نوجوانوں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹرز میں نمایاں ہے، جس نے امریکی سیاست اور خارجہ پالیسی میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اعداد و شمار کا حیران کن رخ گیلپ پول کے مطابق صرف تین سال قبل تک کی صورتحال موجودہ حالات سے بالکل مختلف تھی:
- تین سال قبل: 54 فیصد امریکیوں کی ہمدردیاں اسرائیل کے ساتھ تھیں، جبکہ فلسطینیوں کے حامی محض 31 فیصد تھے۔
- موجودہ صورتحال: اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ 41 فیصد امریکیوں کا جھکاؤ فلسطینیوں کی جانب ہے، جبکہ اسرائیل کی حمایت گر کر صرف 36 فیصد کی تاریخی کم ترین سطح پر رہ گئی ہے۔
گیلپ کے سینئر گلوبل نیوز رائٹر، بینیڈکٹ وگرز کے مطابق، "یہ پہلا موقع ہے کہ عوامی ہمدردیوں نے برابری کی سطح کو بھی عبور کر لیا ہے۔ اتنے کم عرصے میں عوامی رائے کے اس بڑے فرق کا مکمل طور پر ختم ہو جانا واقعی حیران کن ہے۔”
تبدیلی کی وجوہات اور غزہ جنگ کا اثر سروے کے مطابق، امریکی عوام کی رائے میں یہ تبدیلی 7 اکتوبر 2023 سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی، لیکن غزہ میں ہونے والے طویل اور تباہ کن اسرائیلی فوجی آپریشنز نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا۔

7 اکتوبر کے حملے میں 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت اور 251 کو یرغمال بنائے جانے کے بعد، اسرائیل کا عسکری ردعمل عالمی سطح پر انتہائی غیر متناسب سمجھا جا رہا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 72,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں لگ بھگ نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ پورا علاقہ کھنڈر بن چکا ہے۔ اسی تناظر میں، امریکی ترقی پسند سیاست دان اور انسانی حقوق کے کارکن اب اسرائیل کی ان کارروائیوں کو ‘نسل کشی’ قرار دے رہے ہیں—ایک ایسا الزام جس کی اسرائیل سختی سے تردید کرتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کا بدلتا ہوا نقطہ نظر امریکی سیاست میں اس مسئلے پر واضح تفریق اور خلیج پیدا ہو چکی ہے:
- ڈیموکریٹس: آج لگ بھگ دو تہائی ڈیموکریٹس فلسطینیوں کے حق میں ہیں، جبکہ اسرائیل کے حامی صرف 20 فیصد (10 میں سے 2) رہ گئے ہیں۔ واضح رہے کہ 2016 تک یہ صورتحال بالکل الٹ تھی جب نصف ڈیموکریٹس اسرائیل کے حامی تھے۔
- آزاد ووٹرز (Independents): گیلپ کے رجحانات کی تاریخ میں پہلی بار، آزاد ووٹرز کا جھکاؤ بھی فلسطینیوں کی طرف ہوا ہے۔ 10 میں سے 4 آزاد ووٹرز فلسطینیوں کے ساتھ، اور صرف 3 اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔
- ریپبلکنز: اگرچہ زیادہ تر ریپبلکنز (تقریباً 10 میں سے 7) اب بھی اسرائیل کے ساتھ ہیں، لیکن جنگ سے پہلے کی حمایت (10 میں سے 8) کے مقابلے میں ان میں بھی معمولی کمی آئی ہے۔ ٹرمپ کی ‘امریکا فرسٹ’ (America First) پالیسی کے حامی دھڑے بھی اب اسرائیل کے لیے امریکی امداد پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

نیتن یاہو کا کردار اور امریکی صدور تجزیہ کاروں کے مطابق، اس سفارتی اور عوامی تبدیلی کی ایک بڑی وجہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی سخت گیر پالیسیاں بھی ہیں۔ 2017 سے 2024 کے درمیان امریکا میں ان کی مقبولیت میں 15 فیصد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔
سابق صدر براک اوباما کے ساتھ نیتن یاہو کے تعلقات خاصے کشیدہ رہے تھے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں انہیں یروشلم کو دارالحکومت تسلیم کروانے اور گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری جیسے بڑے سفارتی فوائد حاصل ہوئے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی یہ قربت ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں بھی جاری ہے، جس نے امریکی ووٹرز کو اس حساس بین الاقوامی مسئلے پر مزید تقسیم کر دیا ہے۔



