
یوکرین کی جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ منگل کی علی الصبح روسی افواج نے یوکرین کے دارالحکومت کیف، دوسرے بڑے شہر خارکیف اور دیگر علاقوں پر فضائی حملے کیے، جن میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ ان حملوں میں کم از کم چار افراد زخمی ہوئے جبکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
یوکرینی حکام کے مطابق کیف میں آدھی رات کے بعد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ شہر کے پانچ اضلاع متاثر ہوئے، جہاں تین رہائشی عمارتوں اور ایک ایسے کمپلیکس کو نقصان پہنچا جس میں کنڈرگارٹن بھی قائم تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اپارٹمنٹ عمارت کی بالائی منزلیں آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب شہر میں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب تھا، جس نے شہریوں کے لیے مشکلات مزید بڑھا دیں۔

خارکیف کے میئر ایہور تیریخوف نے بتایا کہ روسی حملوں کا خاص ہدف توانائی کا نظام تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد واضح ہے: شدید سردی میں شہر کو حرارت سے محروم کرنا اور زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانا۔ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق خارکیف کے علاقے میں واقع دو قصبوں ایزیوم اور بالاکلیا میں بجلی منقطع ہو گئی، جبکہ شمالی شہر سومی میں بھی رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے ’’جلد اچھی خبر‘‘ سامنے آ سکتی ہے۔ اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا پہلی بار یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ پیش رفت محسوس کر رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ روسی حملے جنگ کے خاتمے سے متعلق متوقع سہ فریقی مذاکرات سے ایک دن قبل ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے روکنے کے ایک غیر رسمی معاہدے پر بھی اختلاف سامنے آیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اتوار کو ختم ہو چکا، جبکہ یوکرین کے مطابق یہ 30 جنوری سے ایک ہفتے کے لیے نافذ ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں روس نے بڑے پیمانے پر توانائی کے مراکز کو نشانہ نہیں بنایا، تاہم محاذِ جنگ کے قریب گولہ باری جاری رہی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین نے مغربی اتحادیوں کے ساتھ اس بات پر اصولی اتفاق کیا ہے کہ اگر مستقبل میں کسی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی ہوئی تو یورپ اور امریکا کی جانب سے مربوط فوجی ردعمل دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
زیلنسکی نے کہا ہے کہ ’’باعزت اور دیرپا امن‘‘ کا حصول ممکن ہے۔ ان کے مطابق بدھ سے ابوظہبی میں روسی اور امریکی حکام کے ساتھ دو روزہ مذاکرات ہونے جا رہے ہیں، جن میں امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف بھی شریک ہوں گے۔ یوکرینی وفد کی امریکی حکام سے علیحدہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
دوسری جانب روس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی غیر ملکی فوج یا فوجی ڈھانچے کی تعیناتی کو ناقابلِ قبول سمجھا جائے گا اور اسے براہِ راست مداخلت قرار دیا جائے گا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایسی کسی بھی فورس کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔
یورپی محاذ پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ یورپی یونین نے حال ہی میں روسی گیس کی درآمد پر پابندی عائد کی ہے۔ یورپی توانائی کمشنر کے مطابق اس فیصلے کا مقصد روس کو توانائی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے روکنا ہے۔ ادھر جرمنی میں حکام نے پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ یورپی پابندیوں کے باوجود روسی دفاعی اداروں کو سامان فراہم کر رہے تھے۔
مجموعی طور پر، ٹرمپ کے مثبت اشاروں کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ یوکرین میں جنگ بدستور جاری ہے، اور حالیہ حملے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ امن کی راہ اب بھی خطرات اور غیر یقینی صورتحال سے بھری ہوئی ہے۔ آنے والے دنوں میں ہونے والے مذاکرات اس طویل جنگ کے مستقبل کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔



