
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "تاریخی قیادت” کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک تہران کے مبینہ دہشت گردانہ خطرات کے خلاف متحد ہیں۔ انہوں نے ایران کے موجودہ نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 47 سالوں سے جاری ‘مرگ بر اسرائیل’ اور ‘مرگ بر امریکہ’ کے نعروں کا خاتمہ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
ایرانی عوام کو اپنی تقدیر بدلنے کی دعوت
نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں ایرانی قوم کے مختلف طبقات، بشمول فارسی، کرد، آذری، بلوچ اور اہوازی برادریوں کو براہِ راست مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشترکہ فوجی کارروائی ایرانی عوام کے لیے وہ حالات پیدا کر دے گی جس کی مدد سے وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ ایران کے بہادر لوگ ظلم کی زنجیریں توڑ کر ایک آزاد اور پرامن ملک کی بنیاد رکھیں۔
آپریشن ‘لائنز رور’ اور اسرائیلی عوام کو ہدایات

وزیراعظم نے اسرائیلی شہریوں پر زور دیا کہ وہ آنے والے مشکل دنوں میں صبر اور ہمت کا مظاہرہ کریں اور ہوم فرنٹ کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ تمام حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن "لائنز رور” کا مقصد صرف دفاع نہیں بلکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے مستقل طور پر روکنا ہے تاکہ عالمی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
عالمی منظرنامہ اور خدشات
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے اس مشترکہ اعلان نے خطے میں ایک ایسی جنگ کا دروازہ کھول دیا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔ نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد کہ "ہم مل کر لڑیں گے اور اسرائیل کی بقا کو یقینی بنائیں گے”، مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدلنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ اب دنیا کی نظریں ایران کے جوابی حملوں اور تہران کی گلیوں میں ہونے والے ممکنہ ردعمل پر لگی ہوئی ہیں۔



