ایرانتازہ ترین

ایرانی حملوں نے عالمی سرمایہ کاروں کو ہلا کر رکھ دیا، کیا دبئی اب محفوظ ہے؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )خلیج میں حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں شہر کے مختلف حصوں میں دھواں اور آگ کے مناظر دکھائے گئے، جن میں پام جمیرہ کے علاقے اور فائیو اسٹار فیئرمونٹ ہوٹل کے قریب آگ بھڑکتی نظر آئی۔

اگرچہ دبئی کسی معروف امریکی فوجی اڈے کے قریب نہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہر کو اس کی علامتی اور معاشی اہمیت کے باعث نشانہ بنایا گیا ہو سکتا ہے۔ دبئی کو طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ میں کاروبار، سرمایہ کاری اور سیاحت کے محفوظ مرکز کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔

کاروباری ساکھ پر اثرات

کورونا وبا کے بعد دبئی نے کم ٹیکس شرح، تیز رفتار بیوروکریسی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے دوستانہ ماحول کے باعث غیر معمولی معاشی ترقی دیکھی۔ جائیداد کی قیمتیں 2020 کے بعد سے نمایاں حد تک بڑھیں اور شہر بین الاقوامی بینکاروں، کرپٹو سرمایہ کاروں اور ریموٹ ورک کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے پرکشش مقام بن گیا۔

ماہرین کے مطابق اگر خطے میں طویل جنگی صورتحال برقرار رہی تو دبئی کی رئیل اسٹیٹ اور مالیاتی منڈی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ایک یورپی تجزیہ کار نے کہا کہ دبئی کی اصل طاقت اس کی “محفوظ نخلستان” کی شبیہ تھی، اور حالیہ واقعات اس تصور کو چیلنج کر رہے ہیں۔

اہم تنصیبات پر اثر

حملوں کے دوران دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کو احتیاطاً خالی کرایا گیا، جبکہ المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے عارضی طور پر پروازیں معطل کر دیں۔ اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا رہا ہے اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔

علاقائی اتحاد اور سفارتی دباؤ

خلیجی ممالک کے درمیان حالیہ حملوں کے بعد رابطے تیز ہو گئے ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور اماراتی صدر محمد بن زاید کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو میں یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ بعض مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے خلیجی شہروں کو نشانہ بنانے سے خطے کے ممالک امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون پر مجبور ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ خلیجی ریاستیں واشنگٹن پر کشیدگی کم کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈال سکتی ہیں۔

غیر یقینی مستقبل

اگرچہ دبئی مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا، مگر حالیہ حملوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خطے کی غیر متوقع سیاست سے کوئی بھی معاشی مرکز مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے لیے اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا یہ کشیدگی عارضی ہے یا ایک طویل تنازع کی شکل اختیار کرے گی۔

فی الحال دبئی اور دیگر خلیجی شہروں میں معمولات بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، مگر صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور عالمی منڈیاں اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button