
ایکسيوس (تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جب امریکی اور اسرائیلی کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ دعویٰ امریکی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کیا گیا ہے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تفصیلی ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا۔
امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی جب آیت اللہ Ali Khamenei ہفتے کی صبح تہران میں اپنے قریبی مشیروں کے ساتھ ایک ملاقات میں مصروف تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہیں حملے کا اندازہ نہیں تھا اور کارروائی انتہائی خفیہ انداز میں کی گئی۔
دوسری جانب خبر ایجنسی Reuters نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مشترکہ فضائی اور بحری آپریشن باقاعدہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا۔ امریکی ذرائع کے مطابق جب اس ملاقات کی تصدیق ہوئی تو کارروائی کا وقت آگے بڑھا دیا گیا تاکہ عنصرِ حیرت برقرار رکھا جا سکے۔

امریکی صدر Donald Trump نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ جدید انٹیلی جنس اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کے باعث ہدف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کے پاس بچ نکلنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق حملے میں خامنہ ای کے ساتھ ان کے چند اہم ساتھی بھی مارے گئے، جن میں سابق سیکریٹری قومی سلامتی کونسل علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے ایک اعلیٰ کمانڈر شامل ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران کی جانب سے مبینہ طور پر اسرائیل اور خلیجی ممالک کی طرف جوابی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی انٹیلی جنس ادارے CIA کی ایک مبینہ پیشگی تجزیاتی رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اگر ایرانی سپریم لیڈر کو ہٹایا گیا تو اقتدار زیادہ سخت گیر عناصر، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ شخصیات کے پاس جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں خطے میں عدم استحکام مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
کون کون نشانہ بنا؟
اسرائیلی دعوے کے مطابق، اس حملے میں صرف خامنہ ای ہی نہیں بلکہ ایران کا پورا ‘تھنک ٹینک’ ختم کر دیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں درج ذیل اہم شخصیات شامل بتائی جاتی ہیں:
- علی شمخانی: سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سابق سربراہ۔
- علی لاریجانی: قومی سلامتی کونسل کے موجودہ سیکرٹری۔
- محمد پاکپور: پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی زمینی فوج کے کمانڈر۔
صدر ٹرمپ کا ‘ٹروتھ سوشل’ پر بڑا انکشاف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر اس آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ خامنہ ای ہماری جدید ترین انٹیلی جنس اور ٹریکنگ سسٹم سے بچنے میں ناکام رہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کے نتیجے میں یہ آپریشن اتنا کامیاب رہا کہ ایرانی قیادت کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ امریکی حکام کے مطابق، حملے کا وقت اس وقت تبدیل کیا گیا جب انٹیلی جنس کو معلوم ہوا کہ خامنہ ای شام کے بجائے صبح ہی اجلاس کر رہے ہیں۔



