
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
‘نیویارک ٹائمز’ نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے سے چند لمحے قبل امریکی خفیہ ادارے ‘سی آئی اے’ (CIA) نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی درست لوکیشن ٹریس کر لی تھی۔ کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے گزشتہ کئی ماہ سے علی خامنہ ای کی نقل و حرکت اور ان کی آمد و رفت کے راستوں کی کڑی نگرانی کر رہے تھے۔ ہفتے کی صبح جب تہران کے قلب میں واقع ایک انتہائی محفوظ کمانڈ کمپاؤنڈ میں اعلیٰ سطح کا اجلاس شروع ہوا، تو سی آئی اے نے وہاں خامنہ ای کی موجودگی کی تصدیق کر دی۔ اس ‘ہائی پریسیژن’ معلومات کو فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ شیئر کیا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک نے حملے کا وقت تبدیل کر دیا تاکہ اس اہم اجلاس کو نشانہ بنایا جا سکے۔
آپریشن کی ٹائمنگ اور فضائی کارروائی
نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی وقت کے مطابق صبح 6 بجے جنگی طیاروں نے اڑان بھری، جبکہ تہران کے مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے کے قریب طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں نے براہِ راست اس کمانڈ کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا جہاں سپریم لیڈر موجود تھے۔ یہ آپریشن امریکی انٹیلی جنس اور اسرائیل کی اپنی فراہم کردہ معلومات کے اشتراک سے مکمل کیا گیا۔

خفیہ معلومات کا تبادلہ اور کامیابی کا دعویٰ
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں انٹیلی جنس کی برتری نے کلیدی کردار ادا کیا۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے کی ٹائمنگ میں تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا اصل ہدف ایرانی قیادت کو مفلوج کرنا تھا۔ اگرچہ ایران کی جانب سے نقصانات کی تفصیلات چھپائی جا رہی ہیں، مگر امریکی میڈیا کے یہ دعوے تہران کے حفاظتی حصار میں بڑی دراڑ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
علاقائی صورتحال پر اثرات
اس انکشاف نے مشرقِ وسطیٰ میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر سپریم لیڈر کی نقل و حرکت اس حد تک امریکی نظروں میں تھی، تو یہ ایرانی انٹیلی جنس نظام کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ اس واقعے کے بعد تہران میں شدید افراتفری کا عالم ہے اور سیکیورٹی پروٹوکولز پر بڑے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔



