امریکاتازہ ترین

امریکہ نے ایران پر حملہ کیوں کیا؟ ٹرمپ کے فیصلے کے پس منظر پر ایک نظر

واشنگٹن(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ شدید فضائی حملوں نے خطے کی صورتحال یکسر بدل دی ہے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق بھی سامنے آ چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بڑا اور خطرناک قدم کیوں اٹھایا؟

ٹرمپ، جو خود کو انتخابی مہم میں “امن کا صدر” قرار دیتے رہے، نے حملوں سے قبل کسی طویل عوامی بحث یا باضابطہ منظوری کے بغیر کارروائی کی۔ تاہم انہوں نے اپنے حالیہ خطاب اور ویڈیو پیغام میں چند اہم وجوہات بیان کیں۔


1️⃣ ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنا

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال کے حملوں میں ایران کے جوہری پروگرام کو “تباہ” کر دیا گیا تھا، مگر تہران اسے دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے اور امریکی انٹیلی جنس کی سابقہ رپورٹس کے مطابق ایران نے 2003 کے بعد باقاعدہ جوہری ہتھیار پروگرام روک دیا تھا، جبکہ ایران ہمیشہ یہ مؤقف اپناتا رہا ہے کہ اس کا پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران نے یورینیم کو جس سطح تک افزودہ کیا، اس کی کوئی واضح شہری ضرورت نہیں، جس پر عالمی تشویش موجود ہے۔


2️⃣ میزائل پروگرام کا خدشہ

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو امریکہ اور یورپی اتحادیوں کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایسے طویل فاصلے کے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو مستقبل میں امریکی سرزمین تک پہنچ سکتے ہیں۔

اگرچہ اس دعوے کی تفصیلات عوامی سطح پر پیش نہیں کی گئیں، لیکن یہ معاملہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی کا سبب رہا ہے۔


3️⃣ امریکی مفادات اور اتحادیوں کا تحفظ

صدر ٹرمپ نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں، بحری راستوں اور اتحادی ممالک کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ انہوں نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیا، جن میں 1979 میں تہران میں امریکی سفارتخانے کا بحران، 1983 میں بیروت حملہ، اور حالیہ برسوں میں امریکی افواج پر حملوں کے الزامات شامل ہیں۔

انہوں نے ایران کی جانب سے حماس اور دیگر گروہوں کی حمایت کا بھی ذکر کیا۔


4️⃣ اندرونی احتجاج اور انسانی حقوق

ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کے خلاف مبینہ سخت کارروائیوں کا بھی حوالہ دیا، تاہم مختلف اداروں کے اعداد و شمار میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایرانی حکام کے فراہم کردہ اعداد میں نمایاں اختلاف ہے۔


5️⃣ نظام کی تبدیلی کا اشارہ

اپنے حالیہ بیان میں ٹرمپ نے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ “اپنی آزادی کا وقت پہچانیں” اور اقتدار سنبھالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ “نسلوں میں ایک بار آنے والا موقع” ہو سکتا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر “شدید اور انتہائی درست بمباری” اس وقت تک جاری رہے گی جب تک واشنگٹن اپنے مقاصد حاصل نہیں کر لیتا۔


آگے کیا ہوگا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا جوا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ مقصد خطے میں امن قائم کرنا ہے، مگر ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں وسیع جنگ چھڑنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button