ایرانتازہ ترین

احمد وحیدی: پاسدارانِ انقلاب کے نئے پاور فل چیف! ماضی کے الزامات پھر زیرِ بحث

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران میں حالیہ فضائی حملوں اور اعلیٰ عسکری قیادت کی ہلاکتوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی قیادت میں اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق احمد وحیدی کو نیا کمانڈر مقرر کر دیا گیا ہے، جو محمد پاکپور کی جگہ سنبھالیں گے۔ پاکپور گزشتہ دنوں آپریشن ’روئرنگ لائن‘ کے ابتدائی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

عراقی ذرائع ابلاغ سے وابستہ ایک نیٹ ورک نے دعویٰ کیا کہ ایران نے تیزی سے قیادت کا خلا پُر کرنے کے لیے یہ تقرری کی ہے، تاکہ جاری کشیدگی کے دوران عسکری ڈھانچہ مستحکم رکھا جا سکے۔

احمد وحیدی اس سے قبل ایران کے وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ ماضی میں قدس فورس کے سربراہ بھی رہے، جو پاسدارانِ انقلاب کا بیرونِ ملک آپریشنز کا بازو سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ان کا نام 1994 میں ارجنٹینا کے شہر بیونس آئرس میں یہودی کمیونٹی سینٹر (AMIA) پر ہونے والے بم دھماکے کے حوالے سے بھی سامنے آتا رہا ہے، جس میں 85 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

ارجنٹینا کی حکومت نے گزشتہ برس ایک بیان میں احمد وحیدی کی گرفتاری کا مطالبہ دہرایا تھا، مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ اس حملے کے مبینہ ذمہ داروں میں شامل ہیں۔ ایران نے ان الزامات کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔

تازہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی عسکری قیادت کو حالیہ حملوں میں شدید نقصان پہنچا ہے اور خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ مبصرین کے مطابق نئی قیادت کے لیے فوری چیلنج اندرونی استحکام برقرار رکھنا اور بیرونی دباؤ کا سامنا کرنا ہوگا۔

خطے کی بدلتی صورتحال میں یہ تقرری نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ عالمی سفارتی منظرنامے پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران پر بین الاقوامی دباؤ اور پابندیاں پہلے ہی موجود ہیں۔

احمد وحیدی کی تقرری نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وہ 1994 میں ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں ‘امیہ’ (AMIA) یہودی کمیونٹی سینٹر پر ہونے والے خودکش حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی بنا پر عالمی سطح پر مطلوب ہیں۔ اس حملے میں 85 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت وحیدی پاسدارانِ انقلاب کے خفیہ آپریشنز یونٹ ‘قدس فورس’ کے سربراہ تھے۔

ارجنٹائن کی حکومت نے دو سال قبل بھی ان کی گرفتاری کا مطالبہ دہرایا تھا اور انٹرپول کے ذریعے ان کے ریڈ وارنٹ جاری کرائے گئے تھے۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے پاکستان اور سری لنکا کا دورہ کیا، تب بھی ارجنٹائن نے ان ممالک سے ان کی گرفتاری کی باقاعدہ درخواست کی تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button