تازہ ترین

کیا امریکا اسرائیل ایران میں فوجیں اتارنے جارہے ہیں؟

امریکا نے 20 ہزار اور اسرائیل نے 1 لاکھ فوجی طلب کرلیے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ) ایران امریکا اسرائیل میں جاری جنگ کی چنگاریاں پھیلتی جارہی ہیں۔ امریکا اسرائیل کے ایران پر شدید حملے جاری ہیں۔ اب تک ایران کی مرکزی قیادت کو نشانہ بنانے سمیت ایران کے میزائل اڈے اور فوجی مراکز نشانہ بنائے گئے ۔ تہران میں واقع سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کی عمارت بھی بمباری کا نشانہ بنی ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے 9 بحری جہاز ڈبونے کا اعلان بھی کیا۔

دوسری طرف ایران کے تباہ کن میزائل ڈرون حملے بدستور جاری ہیں جس میں امریکی اڈے اور اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا جارہاہے ۔ ایران ابتک 1200 سے زائد میزائل ڈرون داغ چکا ہے ۔ ایران نے سپریم لیڈر کے بدلہ کا اعلان کررکھا ہے۔

سپریم لیڈر علی خامنائی کے قتل کے بعد جنگ نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے ۔ امریکا اسرائیل نے بھی کاروائیاں بڑھانے کا اعلان کردیا ہے ۔ نیتن یاہو نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ہم حملے مزید تیز کریں گے ۔

اسرائیلی فوج کے 1 لاکھ ریزرو یعنی احتیاطی فوجیوں کو طلب کرلیا گیا ہے جس کا ہدف شام لبنان عراق باڈر پر تعینات کرکے ملکی دفاع کرنا بتایا گیا ہے۔ ادھر امریکا نے 20 ہزار ریزرو فوجی طلب کرلیے جو امریکی دفاع کے نام پر بلائے گئے ہیں ۔

تاہم مشرق وسطی پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا ماننا ہے یہ سب ایران کے خلاف جنگ کے دوسرے مرحلے کی تیاری ہے جس میں رجیم چینج کرنا اصل ہدف ہے۔ امریکا اسرائیل ضرورت پڑنے پر ایران میں مشترکہ فوجیں اتار سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے پہلے امریکا اسرائیل ایران کی دفاعی عسکری طاقت بمباری کرکے ختم کررہے ہیں پھر ایران کی سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا جائے گا اور پھر راستہ صاف ہونے پر امریکی اسرائیلی کمانڈوز فوج بھیج دی جائے گی تاکہ رضا شاہ پہلوی جیسے لوگوں کو ایران واپس لایا جاسکے ۔

دوسری طرف ایران میں لاکھوں لوگ ملک کے دفاع کے لیے دو دنوں سے سڑکوں پر ہے ۔ امریکی اسرائیلی جہازوں کی موجودگی میں بھی وہ اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایران امریکا کے ان منصوبوں کو روک پاتا ہے یا پھر امریکی اسرائیلی اہداف پورے ہوسکتے ہیں؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button