
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) پینٹاگون کا اعتراف: "ایران پہلے حملہ نہیں کرنا چاہتا تھا”
سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، اتوار کے روز کانگریس کے عملے کو دی گئی ایک خفیہ بریفنگ میں پینٹاگون کے نمائندوں نے اعتراف کیا کہ ایران کا امریکی افواج یا مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ تہران صرف اس صورت میں جوابی کارروائی کا منصوبہ بنا رہا تھا اگر اسرائیل پہلے ایران پر حملہ کرتا۔ یہ اعتراف ٹرمپ انتظامیہ کے اس دعوے کی مکمل نفی کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران امریکہ پر "پہل کاری” (Preemptive) حملوں کی تیاری کر رہا تھا۔
کاملا ہیرس کا سخت ردِعمل: "ٹرمپ نے امریکہ کو زبردستی جنگ میں دھکیلا”
سابق صدارتی امیدوار کاملا ہیرس نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کو ایران کی جنگ میں بھیج کر بڑی غلطی کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بطور کمیٹی ممبر کئی خفیہ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد یہ واضح ہے کہ امریکہ کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ ہیرس کا کہنا تھا کہ "امریکی عوام کبھی یہ جنگ نہیں چاہتے تھے، ٹرمپ نے زبردستی ملک کو اس آگ میں جھونکا اور اب امریکی فوجیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی گئی ہیں۔”
واشنگٹن میں سیاسی بھونچال: ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کا آغاز
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، ہاؤس ڈیموکریٹس نے نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف بڑے پیمانے پر تحقیقات کا جارحانہ منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ انتظامیہ نے عوام اور کانگریس کو گمراہ کر کے جنگ شروع کی، جس کے لیے صدر کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
تجزیہ: کیا جنگ کا جواز جھوٹ پر مبنی تھا؟
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے تازہ اعترافات کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا امریکہ نے محض اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایران پر حملے کیے۔ اگر ایران کا ارادہ صرف دفاعی تھا، تو صدر ٹرمپ کی جانب سے "فوری خطرے” کا بیانیہ اب ان کے لیے سیاسی اور قانونی طور پر ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے جواز پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، جب کانگریس کو دی گئی حالیہ بریفنگ میں ایسے نکات سامنے آئے جو وائٹ ہاؤس کے ابتدائی مؤقف سے مختلف بتائے جا رہے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں نے ہفتے کے روز مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایران ممکنہ طور پر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر پیشگی میزائل حملے کی تیاری کر رہا تھا، جس کے پیشِ نظر امریکہ نے کارروائی کا فیصلہ کیا۔ تاہم اتوار کو کانگریس کے عملے کو دی گئی پینٹاگون بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایران اُس وقت تک امریکی افواج یا اڈوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا جب تک اسرائیل پہلے حملہ نہ کرتا۔
ذرائع کے مطابق اس انکشاف نے انتظامیہ کے اُس بنیادی استدلال کو کمزور کر دیا ہے جس کے تحت ایران کو ’فوری خطرہ‘ قرار دے کر کارروائی کی گئی تھی۔ بریفنگ میں شریک متعدد افراد نے امریکی نشریاتی اداروں کو بتایا کہ انٹیلی جنس جائزے میں ایران کی جانب سے براہِ راست امریکی اہداف پر فوری حملے کے واضح شواہد موجود نہیں تھے۔
دوسری جانب سابق صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “امریکی عوام یہ جنگ نہیں چاہتے تھے، اور اب امریکی فوجی خطرے میں ڈال دیے گئے ہیں۔” ہیرس نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک ایسی کمیٹی کا حصہ رہ چکی ہیں جس نے حساس دستاویزات کا جائزہ لیا، اور ان کے مطابق ایران کی جانب سے امریکہ کو فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے پر کانگریس میں مزید سوالات اٹھ سکتے ہیں، خاص طور پر اس حوالے سے کہ کیا انتظامیہ نے مکمل اور متوازن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کیا تھا یا نہیں۔ آئندہ دنوں میں ممکنہ طور پر اس موضوع پر مزید سماعتیں اور تحقیقات بھی ہو سکتی ہیں۔



