
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) ریاض: خلیجی ممالک کی تنظیم گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) نے ایران کی جانب سے مبینہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ہنگامی اجلاس میں سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
جی سی سی کے وزارتی کونسل کا 50واں غیر معمولی اجلاس اتوار 12 رمضان 1447ھ (یکم مارچ 2026) کو ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی، جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور عمان کے وزرائے خارجہ اور جی سی سی کے سیکریٹری جنرل بھی شریک ہوئے۔
شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام
اجلاس میں کہا گیا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے حملوں میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سعودی عرب، عمان، قطر اور کویت سمیت اردن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اعلامیے کے مطابق ان حملوں میں شہری تنصیبات، سروس مراکز اور رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچا، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلا اور مالی نقصان ہوا۔
وزارتی کونسل نے ان حملوں کو خودمختاری کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری آبادی اور سویلین تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اجتماعی دفاع کا اشارہ
جی سی سی نے واضح کیا کہ رکن ممالک کی سلامتی “ناقابل تقسیم” ہے اور کسی ایک ملک پر حملہ تمام خلیجی ریاستوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اعلامیے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ رکن ممالک انفرادی اور اجتماعی دفاع کا قانونی حق محفوظ رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔
کونسل نے اپنے فضائی دفاعی نظام اور مسلح افواج کی تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کئی حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنایا گیا جس سے جانی نقصان کم ہوا۔
سفارتی کوششوں کا حوالہ
بیان میں کہا گیا کہ خلیجی ممالک نے کشیدگی سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں کیں اور یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف کسی حملے کے لیے استعمال نہیں ہوگی، تاہم اس کے باوجود حملے جاری رہے۔

کونسل نے فوری جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ صورتحال بگڑنے کی صورت میں خطہ خطرناک سمت جا سکتا ہے، جس کے عالمی امن اور توانائی منڈیوں پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اعلامیے میں سمندری راستوں کے تحفظ، فضائی سلامتی اور عالمی سپلائی چین کے استحکام کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے اپیل
جی سی سی نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کی مذمت کرے اور خطے میں مزید کشیدگی روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
ساتھ ہی، کونسل نے ان ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے خلیجی ریاستوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ بیان میں عمان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کو بحران کے حل کا واحد راستہ قرار دیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی گئی۔



