امریکاتازہ ترین

امریکہ–ایران کشیدگی کے اثرات: ایشیائی ایئرلائنز کے شیئرز گر گئے، تیل کی قیمتوں میں تیزی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) تاریخ: 2 مارچ 2026 ایشیا کی فضائی کمپنیوں کے شیئرز میں پیر کے روز نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جب امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ تصادم نہ صرف فضائی سفر کو متاثر کرے گا بلکہ خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی کر سکتا ہے۔

عالمی مارکیٹوں میں بے یقینی اس وقت بڑھی جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ کشیدہ بیانات اور عسکری سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کے لیے خطرات بڑھنے کی صورت میں ایئرلائنز کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے ایندھن کے اخراجات اور سفری وقت میں اضافہ ہوگا۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ایئرلائنز پر دباؤ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ خطے میں کسی بھی بڑی کشیدگی سے سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایندھن ایئرلائنز کے اخراجات کا بڑا حصہ ہوتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے کا براہِ راست اثر ان کی آمدنی پر پڑتا ہے۔

ہانگ کانگ، ٹوکیو اور سڈنی کی اسٹاک مارکیٹوں میں متعدد بڑی فضائی کمپنیوں کے حصص دباؤ کا شکار رہے۔ بعض کمپنیوں کے شیئرز میں ابتدائی کاروبار کے دوران 3 سے 6 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

سفری طلب میں ممکنہ کمی

عالمی سطح پر مسافروں کا اعتماد بھی ایسے حالات میں متاثر ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھی، تو بین الاقوامی سفر میں عارضی کمی دیکھی گئی تھی۔ سیاحتی کمپنیوں اور کارگو آپریٹرز نے بھی محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی طویل ہو گئی تو فضائی کمپنیوں کو نہ صرف ایندھن کے بڑھتے اخراجات بلکہ کمزور ہوتی سفری طلب کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ان کے منافع پر دوہرا دباؤ ڈالے گا۔

سرمایہ کاروں کی نظریں سفارتی پیش رفت پر

مارکیٹ کے مبصرین کے مطابق آئندہ چند دن اہم ہوں گے۔ اگر سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو منڈیوں میں استحکام آ سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی نئے واقعے کی صورت میں مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

عالمی سرمایہ کار اس وقت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی بڑی پیش رفت نہ صرف توانائی بلکہ ٹریول اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بھی وسیع اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

معاشی تجزیہ: کیا ٹکٹ مہنگے ہوں گے؟

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئر لائنز اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ مسافروں پر ڈال سکتی ہیں۔ اگر تیل کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو آنے والے دنوں میں بین الاقوامی پروازوں کے کرایوں میں 15 سے 20 فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، جنگ کی وجہ سے سیاحت کی صنعت کو بھی کروڑوں ڈالرز کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، کیونکہ مسافر اب مشرقِ وسطیٰ اور اس کے قریبی علاقوں کا رخ کرنے سے کترانے لگے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button