امریکاتازہ ترین

کویت میں امریکی F-15 طیارہ تباہ: ایرانی میزائل یا فرینڈلی فائر؟ متضاد دعوؤں کا جائزہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )کویت میں امریکی جہاز F-15 ایگل میزائل لگنے سے گرا یہ کنفرم ہوچکا ہے۔ اس جہاز کی قیمت 100 ملین ڈالر سے زائد ہے ۔ دو پائلٹ زندہ بچ گئے۔ اس جہاز کو کس نے کیسے گرایا؟ امریکی اسرائیلی میڈیا کا دعوی ہے کہ فرینڈلی فائر سے یہ جہاز گرا مطلب کویت میں امریکی ایئر ڈیفنس سسٹم پیٹریاٹ یا سام نے غلطی سے میزائل فائر کردیا جو اس جہاز کو لگ گیا اور وہ گرگیا ۔ ایرانی میڈیا دعوی کررہا ہے کہ یہ جہاز ایران نے گرایا ہے۔ آیئے اس کا جائزہ لیتے ہیں

ایران کا سالم ایئربیس پر میزائل اور ڈرون حملہ

امریکی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ طیارہ ممکنہ طور پر "فرینڈلی فائر” کا نشانہ بنا، یعنی کویت میں تعینات امریکی فضائی دفاعی نظام نے غلطی سے اپنے ہی طیارے پر میزائل داغ دیا۔ اس تناظر میں MIM-104 Patriot سسٹم کا ذکر کیا جا رہا ہے، جو ڈرون اور میزائل حملوں کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

کویتی وزارتِ دفاع کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک ہنگامی بیان (اسٹیٹمنٹ نمبر 7) میں تصدیق کی گئی ہے کہ پیر کی صبح کئی امریکی فوجی طیارے کویت کی حدود میں گر کر تباہ ہو گئے۔ کویتی فوج کے مطابق:

  • حادثے کے فوری بعد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور تمام پائلٹس کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
  • پائلٹس کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
  • اگرچہ کویتی حکام نے حادثے کی حتمی وجہ نہیں بتائی، تاہم ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ (AP) کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران کی جانب سے خطے میں شدید گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔

واشنگٹن میں سیاسی زلزلہ: "ایران سے خطرہ” کے بیانیے پر سوالات

میدانِ جنگ سے ہٹ کر واشنگٹن کے سیاسی ایوانوں میں بھی ایک طوفان برپا ہے۔ امریکی کانگریس میں ہونے والی حالیہ خفیہ بریفنگز نے وائٹ ہاؤس کے ان دعوؤں کو مشکوک بنا دیا ہے جن میں ایران کی جانب سے "فوری خطرے” کا ذکر کیا گیا تھا۔

پینٹاگون کے حکام نے اتوار کو بریفنگ کے دوران اعتراف کیا کہ ایران کا امریکی افواج پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، جب تک کہ اسرائیل کی جانب سے پہل نہ کی جاتی۔ اس انکشاف نے ٹرمپ انتظامیہ کے ان دلائل کو کمزور کر دیا ہے جن کی بنیاد پر ایران کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کی تیاری

‘واشنگٹن پوسٹ’ کے مطابق، ہاؤس ڈیموکریٹس نے نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ایک جارحانہ تحقیقاتی حکمتِ عملی تیار کر لی ہے۔ ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ انتظامیہ نے ملک کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلا جس کا کوئی حقیقی جواز موجود نہیں تھا۔

کویت کی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ متعدد امریکی جنگی طیارے حادثے کا شکار ہوئے، تاہم ان کے تمام عملے محفوظ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق واقعے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور پائلٹس کو بحفاظت نکال کر طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان، جو کویتی فوج کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیا گیا، میں کہا گیا کہ امریکی افواج کے ساتھ مل کر واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے مشترکہ تکنیکی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کی جائیں۔

تحقیقات جاری

ایران کا کویت سے قریب ترین فاصلہ 200 کلومیٹر ہے یا اوسط فاصلہ 550 کلومیٹر ہے تہران سے کویت کا۔ ایران کے پاس شارٹ رینج میزائل جیسے فاتح 110 شہاب 3 موجودہیں۔ غدر میزائل مڈ رینج ہے۔ ایران نے کویت میں سالم اڈے کو ڈرون اور ان میزائلوں سے دو دنوں سے نشانہ بنایا ہے۔ جس میں اس اڈے کو کافی نقصان پہنچا ہے- اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران نے میزائل اس اڈے پر داغے ہوں یا کویت پر تو اس دوران یہ جہاز نشانہ بنا ہو –

کویت میں امریکی جنگی طیاروں کی تباہی

اس سے قبل سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک جنگی طیارے کو آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا دیکھا گیا، جس کے بعد وہ زمین کی طرف گرتا دکھائی دیتا ہے۔ بعض ویڈیوز میں بتایا گیا کہ دونوں پائلٹس نے بروقت طیارے سے نکلنے کی کوشش کی۔ ان مناظر کو مختلف علاقائی نشریاتی اداروں نے بھی نشر کیا۔

پائلٹس کی معجزانہ بچت

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور متعدد ممالک ہائی الرٹ پر ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی تحقیقات مکمل ہونے تک کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا، تاہم اس طرح کے واقعات حساس سکیورٹی ماحول میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔

طیارہ کویت میں کیوں تھا؟

دفاعی مبصرین کے مطابق یہ طیارے عموماً اردن کے ایک بیس سے آپریشن کرتے ہیں اور خلیجی فضائی حدود میں رہتے ہوئے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ کویت میں ان کی مستقل تعیناتی کی تصدیق نہیں، تاہم آپریشنل ضروریات کے تحت عارضی نقل و حرکت ممکن ہو سکتی ہے۔

فرینڈلی فائر کا امکان کتنا؟

فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں فضائی دفاعی نظام تیزی سے متحرک اہداف کو ٹریک کرتا ہے۔ اگر بیک وقت ڈرون اور میزائل حملے ہو رہے ہوں تو شناخت میں غلطی کا امکان مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، لیکن جدید نظام عام طور پر اپنے اور دشمن اہداف میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے حتمی نتیجہ سرکاری تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔

خطے میں کشیدگی برقرار

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف محاذوں پر کارروائیاں جاری ہیں۔ کویت اور ارد گرد کے علاقوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button