ایرانتازہ ترین

سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد زندہ ہیں، قریبی مشیر کا دعویٰ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )استنبول: ایران کے سابق صدر Mahmoud Ahmadinejad کے بارے میں گردش کرنے والی ہلاکت کی خبروں کی تردید کر دی گئی ہے۔ ان کے ایک قریبی مشیر نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ احمدی نژاد زندہ اور محفوظ ہیں۔

مشیر، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کا کہنا تھا: “میں ان سے رابطے میں ہوں، سب خیریت ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز ایک ایسی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جو احمدی نژاد کی سکیورٹی ٹیم سے متعلق تھی۔ اس حملے میں ان کے تین محافظ ہلاک ہوئے، جو پاسدارانِ انقلاب یعنی Islamic Revolutionary Guard Corps کے رکن تھے۔

ذرائع کے مطابق سابق صدر کی رہائش گاہ اس مقام سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر تھی اور اسے براہِ راست نشانہ نہیں بنایا گیا۔

ہلاکت کی افواہیں کیسے پھیلیں؟

اس سے قبل بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ احمدی نژاد مشترکہ امریکی-اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ تاہم قریبی ذرائع کی تازہ وضاحت کے بعد ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔

محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے اور اپنے سخت مؤقف اور متنازع بیانات کے باعث عالمی سطح پر توجہ کا مرکز رہے۔ حالیہ کشیدہ حالات میں ایران کی اعلیٰ قیادت اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد متعدد اہم شخصیات سے متعلق افواہیں بھی گردش میں آئیں۔

خطے میں کشیدگی اور اطلاعاتی جنگ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اطلاعاتی جنگ بھی شدت اختیار کر چکی ہے، جہاں سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ ذرائع سے خبریں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں سرکاری یا مستند ذرائع سے تصدیق کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

تاحال ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم قریبی ذرائع کے مطابق سابق صدر محفوظ ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button