
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )تہران: ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی Fars News Agency نے ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں زیرِ زمین ڈرون اسلحہ خانے کی جھلک دکھائی گئی ہے۔ ویڈیو میں لمبی سرنگوں کے اندر قطار در قطار ڈرونز، میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز اور ایرانی پرچموں سے سجی دیواریں دیکھی جا سکتی ہیں۔
تقریباً ایک منٹ کی اس ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تنصیبات زمین کے اندر محفوظ مقامات پر قائم کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں عسکری صلاحیت برقرار رکھی جا سکے۔ دیواروں پر ایران کے مرحوم سپریم لیڈر Ali Khamenei کی تصاویر بھی نمایاں طور پر آویزاں دکھائی گئیں، جسے مبصرین علامتی پیغام قرار دے رہے ہیں۔
طاقت کا اظہار یا نفسیاتی حکمتِ عملی؟

دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے مناظر جاری کرنا عموماً اسٹریٹجک پیغام رسانی کا حصہ ہوتا ہے۔ اس کا مقصد اندرونِ ملک عوامی حوصلہ بلند رکھنا اور بیرونی دنیا کو عسکری تیاری کا اشارہ دینا ہو سکتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اس ویڈیو کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
ویڈیو میں مختلف اقسام کے ڈرونز دکھائے گئے، جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور ممکنہ طور پر خودکش ڈرون شامل بتائے گئے ہیں۔ اگرچہ ان کی درست تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران گزشتہ چند برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔
علاقائی تناظر
ایران اس سے قبل بھی اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو دفاعی حکمت عملی کا مرکزی جزو قرار دیتا رہا ہے۔ حالیہ ویڈیو ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں عسکری تناؤ عروج پر ہے اور ایران و اسرائیل کے درمیان کشیدہ صورتحال برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق زیرِ زمین عسکری تنصیبات کی نمائش کا مقصد یہ پیغام دینا ہو سکتا ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیت کسی بھی ممکنہ حملے کے باوجود برقرار رہے گی۔



