ایرانتازہ ترین

ایرانی ڈرونز نے خلیجی دفاعی نظام کو چیلنج کر دیا — فضائی تحفظ پر سنگین سوالات

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے کیے گئے وسیع پیمانے پر ڈرون حملوں نے خلیجی ممالک کے فضائی دفاعی نظام کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دفاعی مبصرین کے مطابق یہ حملے نہ صرف عسکری تنصیبات بلکہ شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنانے میں کامیاب رہے، جس سے خطے کے استحکام کا تاثر متاثر ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں ڈرونز استعمال کیے، جن میں بعض خودکش نوعیت کے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون چھوٹے سائز، کم بلندی پر پرواز اور بڑی تعداد میں استعمال کے باعث روکنا مشکل ہو جاتے ہیں۔ اسی حکمتِ عملی کو بعض تجزیہ کار روس کی یوکرین میں اپنائی گئی ڈرون پالیسی سے مشابہ قرار دے رہے ہیں، جہاں بڑی تعداد میں سستے مگر مؤثر ڈرون استعمال کیے گئے۔

اہداف کون سے تھے؟

اطلاعات کے مطابق امریکی فوجی اڈوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بعض خلیجی شہروں میں رہائشی عمارتوں اور سیاحتی علاقوں کے قریب دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ان حملوں نے اس تصور کو جھٹکا دیا ہے کہ خلیجی ممالک مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران نے بعض مقامات پر ڈرون اور میزائل حملوں کو یکجا کر کے فضائی دفاعی نظام کو بیک وقت کئی سمتوں سے مصروف رکھا، جس سے ان نظاموں پر دباؤ بڑھ گیا۔

خطے میں بڑھتی بے یقینی

امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے ایران کے خلاف “وسیع اور مسلسل” کارروائی کے اعلان اور ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کی ہلاکت کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ ایران نے ابتدائی ردعمل میں میزائلوں کی بارش کی، جن میں بعض حملے اتحادی ممالک میں امریکی اڈوں اور شہری علاقوں پر بھی ہوئے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی بتائی گئی ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

معیشت اور سرمایہ کاری پر اثر

خلیجی ریاستوں نے گزشتہ دہائی میں خود کو سرمایہ کاری، سیاحت اور عالمی کاروبار کے محفوظ مراکز کے طور پر پیش کیا تھا۔ حالیہ حملوں نے اس تصویر کو دھچکا پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو سرمایہ کاری اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آگے کیا؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ڈرون اور میزائلوں کا خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہو سکتا ہے، اور آئندہ دنوں یا ہفتوں میں مزید کارروائیوں کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ اسی کے ساتھ خلیجی ممالک اپنے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور اتحادیوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button