ایرانتازہ ترین

قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر ڈرون حملہ، یورپی یونین مشکل فیصلے کے دہانے پر

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )قبرص میں برطانیہ کے خودمختار فوجی اڈے رائل ایئر فورس اکروتیری (RAF Akrotiri) کے رن وے کو ایک ایرانی ساختہ شاہد کامیکازے ڈرون نے نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں رن وے کو معمولی نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اہلِ خانہ اور غیر ضروری عملے کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور خطے میں فوجی تنصیبات ہائی الرٹ پر ہیں۔ دفاعی مبصرین کے مطابق قبرص میں موجود یہ برطانوی اڈہ خطے میں نیٹو اور مغربی افواج کے لیے اہم اسٹریٹیجک حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس پر حملہ علامتی اور عملی دونوں حوالوں سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین ’زُگ زوانگ‘ میں؟

روسی نژاد تجزیہ کار الیکسی کوشچ نے موجودہ صورتحال کو شطرنج کی اصطلاح “زُگ زوانگ” سے تعبیر کیا ہے، جس کا مطلب ہے ایسی پوزیشن جہاں کوئی بھی قدم صورتحال کو مزید خراب کر دے۔ ان کے مطابق اگر یورپی یونین جنگ سے دور رہتی ہے تو تنازع طویل ہو سکتا ہے، جس سے شدید معاشی سست روی اور سماجی دباؤ جنم لے سکتا ہے۔
دوسری طرف اگر یورپ براہِ راست مداخلت کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے مالی اور سیاسی اخراجات بہت زیادہ ہوں گے، جبکہ چین کی ممکنہ بالواسطہ شمولیت عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

واشنگٹن اور بیجنگ کی سفارتی بساط

کوشچ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ آئندہ ہفتوں میں جنگ سے نکلنے کی کوشش کر سکتا ہے اور اسے کامیاب کارروائی کے بیانیے کے ساتھ پیش کرے گا۔ ان کے مطابق عالمی سفارتی کیلنڈر میں آئندہ ہفتے اہم ہو سکتے ہیں، خصوصاً امریکہ اور چین کے درمیان ممکنہ رابطوں کے تناظر میں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جنگ کا آغاز رمضان کے اختتام سے قبل کیوں ہوا اور ایک ماہ کی مدت کا ذکر کیوں کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی اور اسٹریٹیجک حساب کتاب اس ٹائم لائن کے پیچھے کارفرما ہو سکتا ہے۔

آگے کیا؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو کشیدگی کم ہو سکتی ہے، بصورتِ دیگر خطے میں مزید عسکری اقدامات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
فی الحال یورپ، امریکہ اور چین کی نظریں آئندہ چند ہفتوں کی پیش رفت پر جمی ہوئی ہیں، جو ممکنہ طور پر عالمی سیاست کا رخ متعین کر سکتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button