امریکاتازہ ترین

کیا امریکہ کے پاس گولہ بارود ختم ہو رہا ہے؟ پینٹاگون کا اعتراف، ایران کے خلاف لمبی جنگ کا خطرہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون کے اندر ایران سے جاری کشیدگی کے ممکنہ پھیلاؤ پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے بعض اعلیٰ عہدیداروں اور عسکری حکام کو خدشہ ہے کہ یہ تنازع چند دنوں تک محدود رہنے کے بجائے کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

صورتحال سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ “یہاں ماحول شدید تناؤ اور بے چینی کا شکار ہے۔” حکام کو اندیشہ ہے کہ اگر لڑائی طول پکڑتی ہے تو امریکہ کے پہلے سے محدود فضائی دفاعی ذخائر مزید دباؤ میں آ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی نظام میں ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کے لیے بعض اوقات دو سے تین انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑتے ہیں، جس سے اسلحہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں۔ ایک اور ذریعے نے کہا کہ “چند دنوں سے زیادہ طویل صورتحال کے امکانات پر سنجیدہ تشویش موجود ہے، کیونکہ اس کے اثرات ہمارے ذخائر پر فوری طور پر ظاہر ہوں گے۔”

امریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سینئر رکن ایڈم اسمتھ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی وسائل پہلے ہی “شدید دباؤ” میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن نہیں کہ امریکہ دفاعی نظام ختم ہونے کا بہانہ بنا کر کارروائیاں روک دے، اس لیے موجودہ صورتحال دفاعی حکمت عملی کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو امریکہ کو نہ صرف اپنے فوجی وسائل بلکہ اتحادی ممالک کی حمایت پر بھی زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی موجودگی اور ایرانی ڈرون و میزائل صلاحیتوں کے تناظر میں فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن اس بحران کی سمت متعین کرنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ طویل تنازع نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی اور توانائی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

پینٹاگون کے اندر ایران تنازع کے طول پکڑنے پر تشویش بڑھ گئی ہے، حکام کے مطابق طویل لڑائی امریکی فضائی دفاعی ذخائر کو مزید کمزور کر سکتی ہے جبکہ وسائل پہلے ہی دباؤ میں ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button