
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ مشترکہ کارروائیوں کو بعض مبصرین ایک بڑی عسکری پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں حساس انٹیلی جنس معلومات اور ہدفی حملوں کے ذریعے ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، وزیرِ دفاع، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ اور دیگر سینئر عسکری عہدیدار شامل بتائے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد بھی ایران کے فوجی اور اسٹریٹجک مقامات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، خصوصاً بیلسٹک میزائل لانچرز کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس کارروائی کے باوجود یہ تاثر درست نہیں کہ ایران فوری طور پر پسپا ہو جائے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر طاقت کا توازن اب ممکنہ طور پر ایسے عناصر کی جانب منتقل ہو سکتا ہے جو نظریاتی مباحث سے زیادہ عسکری حکمتِ عملی پر توجہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب کے سخت گیر حلقے، جو خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے اور اسرائیل و مغربی ممالک کے خلاف جارحانہ مؤقف کے لیے جانے جاتے ہیں، مستقبل کی قیادت میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر اقتدار کا محور ان عناصر کی طرف منتقل ہوتا ہے تو ایران کی پالیسی مزید سخت اور تصادم پر مبنی ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا حالیہ کارروائیوں سے ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی حکمتِ عملی پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے یا نہیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ دباؤ بڑھنے سے تہران مزید مزاحمتی رویہ اختیار کر سکتا ہے، جبکہ دیگر کے نزدیک داخلی سیاسی تبدیلیاں نئی سفارتی راہیں بھی کھول سکتی ہیں۔

فی الوقت یہ واضح ہے کہ ایران کی آئندہ قیادت کے خدوخال اور اس کی ترجیحات خطے کے امن و استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود ملک کے جھکنے کے آثار نہیں، بلکہ امکان ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے سخت گیر عناصر اقتدار میں زیادہ مضبوط ہو کر خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دیں۔



