تازہ ترینمشرق وسطی

دبئی اور خلیج میں خطرے کی گھنٹی :مشرقِ وسطیٰ چھوڑنے کے لیے 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ کا ٹکٹ، نجی طیاروں کی لائنیں لگ گئیں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے بعد خطے سے انخلاء کی غیر معمولی دوڑ شروع ہو گئی ہے، جہاں انتہائی دولت مند افراد محفوظ راستہ اختیار کرنے کے لیے نجی طیاروں پر لاکھوں پاؤنڈ تک خرچ کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض پروازوں کی قیمت 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ (تقریباً ساڑھے تین لاکھ ڈالر) تک پہنچ چکی ہے۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں ایران کی جانب سے خلیجی خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ابو ظہبی، دبئی، قطر اور بحرین جیسے مراکز میں بے چینی بڑھ گئی۔ یہ علاقے طویل عرصے سے سرمایہ کاروں اور اعلیٰ کاروباری شخصیات کے لیے محفوظ سمجھے جاتے تھے۔ اب کئی مالدار افراد سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کو عارضی محفوظ راستے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، کیونکہ ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ان چند ہوائی اڈوں میں شامل ہے جو تاحال مکمل طور پر فعال ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی سکیورٹی کمپنیاں دبئی سے ریاض تک تقریباً دس گھنٹے کے زمینی سفر کے لیے لگژری ایس یو ویز کا بندوبست کر رہی ہیں، جس کے بعد خصوصی چارٹر طیاروں کے ذریعے یورپ یا دیگر محفوظ مقامات کا رخ کیا جا رہا ہے۔ انخلا کرنے والوں میں عالمی مالیاتی اداروں کے سینئر ایگزیکٹوز اور وہ ہائی نیٹ ورتھ افراد شامل ہیں جو چھٹیوں یا کاروباری دوروں پر خطے میں موجود تھے۔

طلب میں اچانک اضافے کے باعث نجی جیٹس اور سکیورٹی ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بعض روٹس بند ہونے کے بعد سعودی عرب نسبتاً قابلِ رسائی آپشن سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عمان کے راستے محدود ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب کی توانائی تنصیبات بھی خطرات کی زد میں آ گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق راس تنورہ آئل ریفائنری کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد عارضی بندش کی اطلاعات سامنے آئیں۔ دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ بعض ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، تاہم علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی توانائی ڈھانچے کو براہِ راست خطرات میں اضافہ ہو چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف سکیورٹی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی چیلنج بن رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، فضائی سفر کی معطلی اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی اس بحران کے فوری اثرات ہیں۔ اگر کشیدگی طویل ہوئی تو خطے سے سرمائے کا انخلا مزید تیز ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button