
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں ابہام برقرار ہے۔ ایران، امریکہ، اسرائیل اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے بیانات میں تضادات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث اصل صورتحال واضح نہیں ہو سکی۔
ایران کے اقوام متحدہ میں نمائندے رضا نجفی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے دوران نطنز کی جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے ویانا میں IAEA کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ایران کی محفوظ اور پُرامن جوہری تنصیبات پر دوبارہ حملہ کیا گیا ہے”۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے پیر کو کہا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود نہیں جو اس بات کی تصدیق کریں کہ موجودہ تنازع کے دوران بوشہر پاور پلانٹ، تہران ریسرچ ری ایکٹر یا دیگر جوہری فیول سائیکل تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ایجنسی کے مانیٹرنگ آلات نے کسی قسم کے تابکار مواد کے اخراج یا ماحولیاتی آلودگی کے آثار نہیں دکھائے۔
اس کے باوجود اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اصفہان کے جوہری مرکز کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ نے اصفہان کو نشانہ بنایا، جہاں ایران کا 60 فیصد تک افزودہ یورینیم محفوظ ہونے کا امکان ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم اس حملے کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

ماہرین کے مطابق جون 2025 میں ہونے والے حملوں کے بعد IAEA کو نطنز، اصفہان اور فردو جیسی مرکزی تنصیبات تک مکمل رسائی حاصل نہیں رہی، جس کے باعث زمینی حقائق کی براہ راست تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔ گروسی نے بھی تسلیم کیا کہ ان کی معلومات زیادہ تر ٹیکنالوجی کے ذریعے تابکاری کی نگرانی پر مبنی ہیں۔
اسرائیلی حکام نے اگرچہ ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کی بات کی ہے، تاہم انہوں نے واضح طور پر کسی مخصوص تنصیب کا نام نہیں لیا۔ البتہ ایرانی جوہری پروگرام سے وابستہ چند اعلیٰ عہدیداروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، جسے اسرائیل کے ہدفی حملوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے تو اس کے عالمی اثرات ہو سکتے ہیں، تاہم فی الحال کسی بڑے تابکار اخراج یا ماحولیاتی بحران کی اطلاع نہیں ملی۔ موجودہ صورتحال میں معلومات کی کمی اور متضاد بیانات نے غیر یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔



