ایرانتازہ ترین

ایران کاخفیہ پلان بے نقاب! کیا فیلڈ کمانڈرز کو براہِ راست حملوں کی اجازت مل چکی ہے؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران کی حالیہ عسکری کارروائیوں اور سرکاری بیانات کے بعد تجزیہ کاروں میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی سیاسی قیادت کی جانب سے بعض علاقائی حملوں سے لاتعلقی ظاہر کرنا غیر معمولی پیش رفت ہے، جو ممکنہ طور پر اندرونی حکمتِ عملی میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

تجزیاتی حلقوں میں دو بڑے امکانات زیرِ بحث ہیں۔ پہلا یہ کہ سیاسی قیادت مستقبل کے سفارتی اور سیاسی نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے لیے “واپسی کا راستہ” محفوظ رکھنا چاہتی ہے، تاکہ جنگ کے بعد علاقائی اور عالمی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ اس تناظر میں بعض بیانات کو ایک محتاط سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسرا اور زیادہ سنجیدہ امکان یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ایران کی عسکری ساخت میں کسی غیر معمولی حکمتِ عملی کو فعال کیا گیا ہو۔ ایران میں پاسدارانِ انقلاب اور باقاعدہ فوج دونوں کی الگ الگ کمانڈ ساخت موجود ہے۔ ماضی میں سپریم لیڈر کی نگرانی میں “خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر” جیسے مشترکہ جنگی مراکز قائم کیے گئے تھے، جن کا مقصد جنگی حکمتِ عملی مرتب کرنا اور مختلف عسکری یونٹس کو ہم آہنگ کرنا تھا۔

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں اگر کمانڈ اسٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ تھا، تو ممکن ہے کہ فیصلہ سازی کو نچلی سطح تک منتقل کر دیا گیا ہو۔ ایسی حکمتِ عملی میں فیلڈ کمانڈرز کو نسبتاً زیادہ خودمختاری مل سکتی ہے، جس سے روایتی محاذ کے بجائے بکھری ہوئی کارروائیاں سامنے آ سکتی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ ماڈل کسی حد تک غیر روایتی یا گوریلا طرزِ جنگ سے مشابہ ہو سکتا ہے، جہاں مرکزی کمان کے بجائے متعدد چھوٹے محاذ سرگرم رہتے ہیں۔

تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق موجود نہیں کہ آیا ایران نے واقعی ایسی پالیسی اختیار کی ہے یا نہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں اطلاعات کا بہاؤ محدود اور بیانات متضاد ہو سکتے ہیں، اس لیے حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

دوسری جانب یہ امکان بھی موجود ہے کہ مرکزی کمان ہی صورتحال کو کنٹرول کر رہی ہو اور سیاسی قیادت محض سفارتی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اگر ایسا ہے تو بیانات اور زمینی کارروائیوں کے درمیان فرق ایک سوچے سمجھے بیانیے کا حصہ ہو سکتا ہے۔

علاقائی مبصرین کے مطابق موجودہ تنازع میں اصل سوال یہ نہیں کہ کون حکم دے رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا جنگ محدود رہے گی یا وسیع تر تصادم میں بدل جائے گی۔ آنے والے دن اس بحث کو مزید واضح کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button