
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )خلیجی خطے میں حالیہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات اور قطر نے فوری طور پر اپنے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق دونوں ممالک نے اتحادیوں سے اضافی دفاعی معاونت کی درخواست کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے فضائی دفاعی نظام کی ضرورت ہے، تاکہ ممکنہ بیلسٹک اور کروز میزائل خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ دوسری جانب قطر کو ڈرون حملوں کے بڑھتے خدشات کا سامنا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار سے حملے جاری رہے تو قطر کے پاس موجود پیٹریاٹ میزائل سسٹم کے ذخائر آئندہ چار دن میں ختم ہو سکتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹریاٹ سسٹم بیلسٹک میزائلوں کو روکنے میں مؤثر سمجھا جاتا ہے، لیکن مسلسل حملوں کی صورت میں میزائل ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں۔ ڈرونز کے خلاف دفاع کے لیے کم لاگت اور تیز ردعمل والے متبادل نظام کی بھی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

حالیہ کشیدگی کے بعد خلیجی ممالک میں سکیورٹی الرٹ کی سطح بلند کر دی گئی ہے، جبکہ امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون پر بھی بات چیت جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تنازع طویل ہوا تو خطے میں فضائی دفاعی نظام کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی دفاعی صنعت پر بھی پڑیں گے۔
متحدہ عرب امارات کی ‘میڈیم رینج’ دفاع کے لیے تگ و دو
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی فضائی حدود کو محفوظ بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اماراتی حکام اس وقت درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے (Medium-range) دفاعی نظام کے حصول کے لیے کوشاں ہیں تاکہ ایرانی میزائلوں کو سرحد سے باہر ہی روکا جا سکے۔

خلیجی دفاعی حصار میں شگاف؟
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ قطر اور یو اے ای کی جانب سے دفاعی مدد کی یہ ہنگامی پکار اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران کی ‘اسپرے اینڈ پرے’ (بغیر کسی ترتیب کے حملے) کی حکمتِ عملی نے جدید ترین مغربی دفاعی نظاموں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ خاص طور پر قطر کے میزائلوں کا تیزی سے ختم ہونا پورے خلیجی خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔



