
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگی کارروائیاں “کچھ وقت” لے سکتی ہیں، تاہم یہ تنازع برسوں پر محیط نہیں ہوگا اور اسے لامتناہی جنگ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
واشنگٹن میں دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ کارروائی تیز اور فیصلہ کن ہو سکتی ہے، اگرچہ مکمل نتائج حاصل کرنے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔ ان کا کہنا تھا، “یہ برسوں نہیں چلے گی، یہ لامتناہی جنگ نہیں ہے۔”
امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز تہران سمیت مختلف اہداف پر فضائی حملوں کا آغاز کیا، جس کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں کی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کا رخ اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کی جانب بھی رہا، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں عندیہ دیا تھا کہ یہ جنگ چار سے پانچ ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے، تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو کارروائیاں زیادہ عرصے تک بھی جاری رکھی جا سکتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں یہ اقدام ایک نمایاں تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران بیرونِ ملک امریکی مداخلتوں کی مخالفت کی تھی۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کارروائیوں کا ہدف ایران کی میزائل، بحری اور کمانڈ اینڈ کنٹرول صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ تاہم خطے میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی منڈیوں، خصوصاً توانائی کے شعبے میں غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ تنازع محدود فوجی مہم تک محدود رہے گا یا خطے میں وسیع تر جنگ کا سبب بنے گا۔ فی الحال اسرائیلی قیادت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ کارروائی کا دائرہ محدود اور مدت مختصر رکھی جائے گی۔



