
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )خلیجی خطے میں کشیدگی نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے جہاں ریاض میں امریکی سفارتخانے، عمان کی دقم بندرگاہ اور بحرین میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایران کی جانب سے امریکی۔اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں خطے بھر میں جوابی اقدامات جاری ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ریاض میں امریکی سفارتخانے کے کمپاؤنڈ پر دو ڈرونز گرنے سے محدود نوعیت کی آگ بھڑک اٹھی اور معمولی مادی نقصان ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمارت حملے کے وقت خالی تھی اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ عینی شاہدین کے مطابق سفارتی علاقے میں دھماکے کی آواز سنائی دی اور سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
سعودی فوجی ذرائع کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے سفارتی علاقے کی طرف آنے والے چار ڈرونز کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں مزید ڈرونز کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

ادھر عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ دقم کمرشل پورٹ پر واقع ایک ایندھن کے ٹینک کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس سے محدود نقصان ہوا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام نے کہا کہ صورتِ حال پر قابو پا لیا گیا ہے اور بندرگاہ کی سرگرمیاں جاری ہیں۔
بحرین میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شیخ عیسیٰ کے علاقے میں واقع امریکی فضائی اڈے کو بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملے میں نشانہ بنایا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس حملے میں بیس کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں بھی ایک آئل انڈسٹری زون کے قریب ڈرون کے ٹکڑے گرنے سے آگ لگ گئی، جسے فوری طور پر بجھا دیا گیا۔ حکام کے مطابق حملہ روکا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ان حملوں کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے احتیاطی اقدام کے طور پر بحرین، کویت، قطر، اردن اور عراق میں غیر ضروری عملے کو واپس بلانے کا حکم دے دیا ہے۔ اس سے قبل امریکی حکام نے مشرقِ وسطیٰ کے ایک درجن ممالک میں مقیم امریکی شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی کی تھی۔ کویت میں امریکی سفارتخانہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سفارتی تنصیبات اور توانائی مراکز کو نشانہ بنایا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ تنازع اب وسیع تر علاقائی دائرے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات نہ صرف سکیورٹی بلکہ عالمی توانائی اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔



