امریکاتازہ ترین

سیٹلائٹ تصاویر میں انکشاف: ایرانی حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں کئی امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )نئی سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں واقع متعدد امریکی فوجی اڈوں کی مواصلاتی اور ریڈار تنصیبات کو نقصان پہنچایا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملے ایسے اہم نظاموں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے جو خطے میں امریکی فوج کی دفاعی اور مواصلاتی صلاحیت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ان حملوں میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن (SATCOM) ٹرمینلز، ریڈار گنبد (Radomes)، سیٹلائٹ ڈشز اور میزائل ٹریکنگ سسٹمز کے قریب موجود تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں AN/TPY-2 جیسے جدید ریڈار سسٹمز کے گرد موجود مواصلاتی ڈھانچے بھی شامل بتائے جا رہے ہیں، جو بیلسٹک میزائلوں کی نگرانی اور دفاعی نظام کی ہم آہنگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

متاثر ہونے والے اہم امریکی فوجی مقامات میں بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر، قطر کا العدید ایئر بیس، کویت کے کیمپ عریفجان اور علی السالم ایئر بیس، سعودی عرب کا پرنس سلطان ایئر بیس اور متحدہ عرب امارات میں واقع بعض فوجی تنصیبات شامل بتائے گئے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی مقصد امریکی فوج کے مواصلاتی رابطوں اور میزائل دفاعی نظام کے درمیان ہم آہنگی کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔ اگر یہ نظام عارضی طور پر بھی متاثر ہوتے ہیں تو خطے میں فوجی کارروائیوں اور فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی پر اثر پڑ سکتا ہے۔

ادھر امریکی حکام نے ان رپورٹس پر باضابطہ طور پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم خطے میں موجود امریکی اڈوں کی سکیورٹی مزید سخت کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب جاری کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں فوجی سرگرمیوں اور دفاعی تیاریوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید جنگ میں مواصلاتی اور ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنانا ایک اہم حکمت عملی بن چکا ہے، کیونکہ اس سے مخالف فریق کی دفاعی صلاحیت کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button