امریکاایرانتازہ ترین

یہ مقدس جنگ ہے ۔ اٹھو خدا کے لیے لڑو ۔ امریکی وزیر جنگ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) — امریکہ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان امریکی فوج کے بعض حلقوں میں مذہبی بیانیے کے استعمال پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم ملٹری ریلیجس فریڈم فاؤنڈیشن (MRFF) کا کہنا ہے کہ اسے متعدد فوجیوں کی جانب سے شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ کچھ فوجی کمانڈرز نے ایران کے ساتھ جنگ کو مذہبی پیش گوئیوں سے جوڑ کر پیش کیا۔

تنظیم کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اسے تقریباً 110 شکایات موصول ہوئی ہیں جو 30 مختلف فوجی تنصیبات اور 40 سے زائد یونٹس سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کی جانب سے کی گئی ہیں۔ بعض فوجیوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کے کمانڈرز نے جنگ کو بائبل میں مذکور آرمگڈون (آخری بڑی جنگ) سے جوڑتے ہوئے اسے خدا کے منصوبے کا حصہ قرار دیا۔

ایک فوجی اہلکار، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے تنظیم کو بتایا کہ ان کے یونٹ کے کمانڈر نے دعویٰ کیا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خدا کی جانب سے ایک خاص مقصد کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور ایران کے ساتھ جنگ اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ اس اہلکار کے مطابق ایسے بیانات سے فوجیوں کے حوصلے اور یونٹ کی یکجہتی متاثر ہو سکتی ہے اور یہ فوج کے آئینی اصولوں سے متصادم ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی کارروائیوں کا مقصد مذہبی نہیں بلکہ سکیورٹی اور دفاعی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف فوجی اقدامات کے تین بنیادی مقاصد ہیں: ایران کے میزائل پروگرام، اسلحہ سازی کے ڈھانچے اور بحری صلاحیت کو محدود کرنا۔

ادھر بعض مذہبی رہنماؤں نے بھی حالیہ تنازع کو مذہبی تناظر میں بیان کیا ہے۔ امریکی مذہبی رہنما جان ہیگی نے ایک خطاب میں کہا کہ عالمی حالات ایسی سمت میں جا رہے ہیں جو بائبل میں بیان کردہ آخری دور کی علامات سے ملتے جلتے ہیں۔ اسی طرح بعض مذہبی شخصیات نے اسرائیل کی حمایت کو مذہبی فریضہ قرار دیتے ہوئے ایسے بیانات دیے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوج ایک سیکولر ادارہ ہے اور اس کی پالیسی کے مطابق فوجی فیصلے مذہبی نظریات کے بجائے آئینی اصولوں اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ تاہم ایسے بیانات سامنے آنے کے بعد فوج کے اندر مذہب اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے درمیان توازن پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران نہ صرف فوجی بلکہ نظریاتی اور معلوماتی جنگ بھی شدت اختیار کر رہی ہے، جس کے باعث مختلف بیانات اور تشریحات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن رہی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button