
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )واشنگٹن — امریکی حکومت نے بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے تناظر میں دفاعی صنعت کے بڑے اداروں کے ساتھ ہنگامی مشاورت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں جلد ایک اہم اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں امریکہ کی بڑی دفاعی کمپنیوں، جن میں لاک ہیڈ مارٹن اور آر ٹی ایکس (ری تھیون) سمیت دیگر ادارے شامل ہوں گے، کو مدعو کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس اجلاس کا مقصد جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کی پیداوار میں تیزی لانا ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں ایران، یوکرین اور غزہ سے متعلق تنازعات کے باعث امریکی اسلحہ ذخائر پر نمایاں دباؤ پڑا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فوجی ضروریات کو پورا رکھنے کے لیے دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت بڑھانا اب ایک اہم ترجیح بن چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق پینٹاگون تقریباً 50 ارب ڈالر کے اضافی دفاعی بجٹ کی تیاری کر رہا ہے جس کا مقصد اسلحہ ذخائر کو دوبارہ بھرنا اور اہم ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانا ہے۔ اس منصوبے میں خاص طور پر ٹاماہاک کروز میزائل کی سالانہ پیداوار کو بڑھا کر تقریباً 1000 میزائل تک لے جانے کا ہدف شامل ہے۔

امریکی حکام نے دفاعی کمپنیوں پر یہ دباؤ بھی بڑھایا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو زیادہ سے زیادہ پیداوار بڑھانے پر مرکوز کریں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں کمپنیوں کو منافع یا شیئر ہولڈرز کو ادائیگیوں کے بجائے دفاعی پیداوار کو ترجیح دینی چاہیے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کمپنی مطلوبہ رفتار سے پیداوار بڑھانے میں ناکام رہی تو اس کے خلاف جرمانے یا دفاعی معاہدوں کی منسوخی جیسے اقدامات بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ہتھیاروں کی صنعت کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ کئی ممالک اپنی فوجی صلاحیتیں تیزی سے بڑھا رہے ہیں اور اسلحہ سازی کی رفتار میں اضافہ کر رہے ہیں، جس کے باعث عالمی دفاعی صنعت میں مقابلہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں دفاعی بجٹ اور ہتھیاروں کی پیداوار عالمی سطح پر مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور سلامتی کی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔



