ایرانتازہ ترین

ایران۔اسرائیل جنگ میں پہلا فضائی معرکہ، اسرائیلی F-35 نے ایرانی جنگی طیارہ مار گرایا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران۔اسرائیل کشیدگی کے دوران پہلی مرتبہ دونوں ممالک کے جنگی طیاروں کے درمیان براہِ راست فضائی مقابلہ سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایک اسرائیلی F-35I اسٹیلتھ لڑاکا طیارے نے ایرانی فضائیہ کے YAK-130 طیارے کو فضائی جھڑپ کے دوران مار گرایا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ موجودہ جنگ کا پہلا فضائی ڈاگ فائٹ تھا۔

دفاعی ذرائع کے مطابق YAK-130 روسی ساختہ جدید تربیتی اور ہلکے جنگی مشنز کے لیے استعمال ہونے والا طیارہ ہے، جسے عام طور پر جدید لڑاکا طیاروں کے پائلٹس کی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ایران کی فضائیہ میں موجود کئی طیارے پرانے ماڈلز جیسے F-4 اور F-5 پر مشتمل ہیں، تاہم YAK-130 نسبتاً زیادہ جدید سمجھا جاتا ہے اور میدانِ جنگ میں ڈرون اور دیگر فضائی آپریشنز کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی اسرائیل اور امریکہ نے تہران کے اطراف فضائی برتری حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ وہاں طویل مدت تک فضائی نگرانی اور حملے کیے جا سکیں۔ اطلاعات کے مطابق اس مقصد کے لیے اسرائیلی اور امریکی طیارے ایرانی اہداف پر مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق چند روز قبل اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے بعض جنگی طیاروں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ رن وے پر پرواز کی تیاری کر رہے تھے۔ دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملوں کا مقصد دشمن کی فضائی صلاحیت کو ابتدا ہی میں محدود کرنا ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے لیے یہ ایک غیر معمولی واقعہ بھی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ آخری مرتبہ اسرائیلی لڑاکا طیارے نے کسی دوسرے جنگی طیارے کو تقریباً چار دہائی قبل 1985 میں لبنان کے فضائی معرکے میں مار گرایا تھا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جدید جنگ میں فضائی برتری انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اگر کسی ملک کو مخالف کی فضائی حدود میں طویل وقت تک کارروائی کی آزادی مل جائے تو اس سے زمینی اہداف، میزائل لانچنگ سائٹس اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باعث فضائی محاذ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ایران کے پاس مختلف میزائل اور فضائی دفاعی نظام بھی موجود ہیں۔ اس لیے آنے والے دنوں میں فضائی مقابلے اور دفاعی کارروائیاں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button