ایرانترکیمشرق وسطی

مشرقِ وسطیٰ میں غیر معمولی فوجی سرگرمیاں، ایران کے گرد دباؤ اور ممکنہ بڑے واقعے کے خدشات

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی فوجی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جسے ماہرین ایک حساس مرحلے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ فضائی نقل و حرکت، جدید جنگی طیاروں کی تعیناتی اور سخت سیاسی بیانات نے یہ تاثر مضبوط کر دیا ہے کہ خطہ کسی بڑے واقعے کے دہانے پر کھڑا ہو سکتا ہے، اگرچہ باضابطہ طور پر کسی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اردن کے سلطی ایئر بیس پر مزید چار امریکی EA-18G گراؤلر طیارے دیکھے گئے ہیں، جو دشمن کے ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دو مزید ایسے طیارے اسپین سے اردن منتقل کیے جا رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے جہاز عموماً کسی ممکنہ فضائی کارروائی سے قبل تعینات کیے جاتے ہیں۔

NAVAL AIR STATION POINT MUGU, Calif. (Sept. 19, 2023) Two E/A-18G Growlers assigned to the “Star Warriors” of Navy Reserve squadron, Electronic Attack Squadron (VAQ) 209, conducts an AGM-88 High Speed Anti-Radiation Missile (HARM) shoot exercise, operating out of Naval Air Station Point Mugu, September 19. VAQ-209 is the U.S. military’s only Reserve E/A-18G squadron. (U.S. Navy photo by Cmdr. Cameron Dekker)

اوپن سورس انٹیلی جنس کے مطابق امریکی فضائیہ کا نایاب طیارہ E-11A BACN مشرقِ وسطیٰ میں کریٹ، خلیج اور لیوانت کے درمیان آپریٹ کر رہا ہے۔ یہ طیارہ ایک جدید مواصلاتی نظام لے جاتا ہے جو جنگی طیاروں، ڈرونز، بحری جہازوں اور زمینی افواج کو ایک مربوط نیٹ ورک میں جوڑ دیتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس طیارے کی موجودگی عام طور پر اعلیٰ سطح کی فوجی ہم آہنگی کی نشاندہی کرتی ہے، اور یہ سروس میں موجود چند درجن سے بھی کم ایسے جہازوں میں شامل ہے۔

A 430th Expeditionary Electronic Combat Squadron E-11A aircraft outfitted with a Battlefield Airborne Communications Node sits on the runway at Kandahar Airfield, Afghanistan, April 4, 2019. The 430th EECS is the only unit that operates these aircraft with the BACN payload. (U.S. Air Force photo by Capt. Anna-Marie Wyant)

اسرائیلی تجزیہ کار یاکوف بارڈوگو نے چینل 14 ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ عوامی طور پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر ان کا تاثر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آیت اللہ کی حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ کر چکے ہیں، خواہ وہ کسی معاہدے کے ذریعے ہو یا براہِ راست حملے کے ذریعے۔ ان کے بقول یہ دن غیر معمولی طور پر نازک ہیں اور کسی بڑے واقعے، چاہے وہ سائبر حملہ ہو یا فوجی کارروائی، کے امکانات موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اعلیٰ سطحی خفیہ بات چیت کی تفصیلات جاننے کے دعوے درست نہیں۔

دوسری جانب بعض ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایران جیسے بڑے اور پیچیدہ ملک پر حملہ گہری انٹیلی جنس، تفصیلی منصوبہ بندی اور زمینی حالات پر مضبوط کنٹرول کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کا ماضی میں مشرقِ وسطیٰ میں ریکارڈ مثالی نہیں رہا، اس لیے کسی بھی فیصلے سے پہلے واشنگٹن کو غیر معمولی احتیاط برتنے کی ضرورت ہو گی۔

معاشی محاذ پر بلومبرگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا کشیدگی بڑھی، خاص طور پر ایران، خلیج یا آبنائے ہرمز کے گرد، تو عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اس وقت اسٹاک اور تیل کی منڈیاں اس خطرے کو پوری سنجیدگی سے نہیں لے رہیں۔

فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے پاس اسرائیل تک جوہری ہتھیار پہنچانے کا واحد قابلِ عمل ذریعہ طویل فاصلے کے بیلسٹک یا ہائپر سونک میزائل ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ میزائل مؤثر ثابت نہ ہوں تو ایرانی جوہری صلاحیت بطور روک تھام محدود ہو جائے گی۔ اسی لیے مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران کے جوہری ہتھیار سے زیادہ اس کے میزائل پروگرام کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔

مجموعی طور پر ماہرین کا ماننا ہے کہ خطے میں فوجی تیاری، سخت سیاسی بیانات اور معاشی خدشات ایک ساتھ جمع ہو رہے ہیں۔ اگرچہ فوری جنگ کی تصدیق نہیں، مگر حالات کی نزاکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آئندہ دن مشرقِ وسطیٰ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button