
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )— امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایران کی کئی اہم فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ مشترکہ گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور ریڈار و نگرانی کے کئی اہم نظام “تقریباً مکمل طور پر ناکارہ” بنا دیے گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج نے ایران میں متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار مراکز اور دیگر فوجی ڈھانچے شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی کارروائیاں تیزی اور مؤثر انداز میں کی جا رہی ہیں اور امریکی افواج اپنی کارروائیوں میں کامیابی حاصل کر رہی ہیں۔
ٹرمپ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران کے خلاف امریکی حملے اسرائیل کے دباؤ کے نتیجے میں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے اپنی اسٹریٹجک تشخیص کی بنیاد پر فیصلہ کیا اور انہیں خدشہ تھا کہ ایران پہلے حملہ کر سکتا ہے، اسی لیے پیشگی کارروائی ضروری سمجھی گئی۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی قیادت سے متعلق بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملوں میں ایرانی قیادت کے بعض اہم افراد نشانہ بنے ہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے بعض مقامات پر شہری اہداف کو نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس کے حملے صرف فوجی اہداف تک محدود ہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج کے پاس اس وقت اسلحے اور گولہ بارود کے وافر ذخائر موجود ہیں اور دفاعی صنعت کو ہنگامی بنیادوں پر پیداوار بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر ضرورت پڑی تو امریکہ مزید فوجی کارروائیاں بھی کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے اندر ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی محتاط موقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ قیادت کے بعد کوئی نئی قیادت سامنے آتی ہے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ خطے میں استحکام کے لیے کس حد تک مثبت کردار ادا کرتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔



