ایرانتازہ ترین

ایران کا جوابی وار: خلیج فارس میں 1.1 ارب ڈالر کا جدید ترین امریکی ریڈار نظام تباہ، پینٹاگون کو بڑا دھچکا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جوابی فوجی کارروائیوں میں خلیج کے علاقے میں واقع ایک اہم امریکی ریڈار سسٹم اور متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ ریڈار سسٹم خطے کے سب سے بڑے ابتدائی وارننگ سسٹمز میں شمار ہوتا تھا، جو تقریباً 5 ہزار کلومیٹر تک نگرانی کی صلاحیت رکھتا تھا اور اس کی لاگت ایک ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی کے مطابق ایران کی جوابی کارروائی “آپریشن ٹرو پرومس 4” کے تحت کی گئی، جس میں میزائل اور ڈرون حملے شامل تھے۔ ان کے دعوے کے مطابق جنگ کے ابتدائی دو دنوں میں 650 سے زیادہ امریکی فوجی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے ان اعداد و شمار کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر سمیت متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان کے مطابق ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے بارہا ان تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے کچھ فوجی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

ایرانی بیان کے مطابق خلیج فارس میں تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو بھی ایرانی میزائلوں کا سامنا کرنا پڑا اور اسے علاقے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ اسی طرح ایک امریکی بحری معاون جہاز کو بھی نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی ہلال احمر کے مطابق حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں 780 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جنوبی ایرانی شہر میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے میں درجنوں بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس پر ملک بھر میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے بچوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے “انسانی المیہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حملے ایرانی عوام کی یادداشت سے کبھی محو نہیں ہوں گے۔

ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جوابی کارروائیاں صرف اسرائیلی اور امریکی فوجی اہداف تک محدود ہیں اور تہران خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی کا احترام کرتا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے دوران مختلف فریقوں کی جانب سے بڑے دعوے سامنے آ رہے ہیں، تاہم جنگی حالات میں ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق اکثر مشکل ہوتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button