
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ جنگ کو صرف خطے کی سکیورٹی کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اس کے پیچھے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی داخلی سیاسی حکمت عملی بھی کارفرما ہو سکتی ہے۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول پر لانے (Normalization) کی بات کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ اور مغربی کنارے میں جاری کارروائیوں پر عالمی سطح پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کو وہ “نیتن یاہو کی جنگ” قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کی امریکہ کے متعدد دوروں اور واشنگٹن کے ساتھ قریبی رابطوں نے اس پالیسی پر اثر ڈالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی قیادت کو اپنے مؤقف کی حمایت پر آمادہ کر لیا۔

شہزادہ ترکی الفیصل نے مزید کہا کہ اسرائیل کے اندر بھی سیاسی اور آئینی سطح پر بڑے تنازعات چل رہے ہیں۔ ان کے مطابق نیتن یاہو حکومت پر یہ الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ آئینی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں چاہتی ہے جن کے بعد وزیراعظم کو زیادہ اختیارات حاصل ہو جائیں اور نگرانی کا نظام کمزور ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ ناقدین کے مطابق جنگی ماحول بعض اوقات داخلی سیاسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول موجودہ تنازع کو فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ اور مغربی کنارے میں جاری صورتحال سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شہزادہ ترکی الفیصل کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کے کئی اہم رہنما موجودہ جنگ کو صرف فوجی تنازع نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی پیچیدگیوں کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔



