
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے دوران امریکہ نے اپنے جدید بین البراعظمی بیلسٹک میزائل Minuteman III کا ایک تجربہ کیا ہے۔ امریکی فضائیہ کے مطابق یہ تجرباتی میزائل منگل کی رات کیلیفورنیا کے ساحل پر واقع وینڈنبرگ اسپیس فورس بیس سے فائر کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ میزائل رات تقریباً 11 بجے لانچ کیا گیا اور ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد بحرالکاہل میں مارشل جزائر کے قریب اپنے ہدف پر کامیابی سے پہنچ گیا۔ امریکی اسپیس فورس نے بتایا کہ اس تجربے میں استعمال ہونے والا میزائل غیر مسلح تھا اور اسے صرف تکنیکی جانچ کے لیے استعمال کیا گیا۔
امریکی فضائیہ کی گلوبل اسٹرائیک کمانڈ کے مطابق اس تجربے کا مقصد میزائل نظام کی درستگی، تیاری اور مؤثر کارکردگی کو جانچنا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مختلف آپریشنل حالات میں میزائل سسٹم کی جانچ سے امریکہ کی جوہری دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
منٹ مین III میزائل کیا ہے؟

Minuteman III امریکہ کے اہم ترین جوہری ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے اور یہ امریکی دفاعی نظام کے “نیوکلئیر ٹرائیڈ” کا حصہ ہے۔ اس نظام کے تحت امریکہ زمین، سمندر اور فضاء تینوں راستوں سے جوہری حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ میزائل ایسے جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جن کی تباہی کی طاقت ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے تقریباً 20 گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ تاہم حالیہ تجربہ مکمل طور پر غیر جوہری تھا اور اسے محض دفاعی تیاری کے جائزے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
ایران جنگ کے تناظر میں اہمیت

یہ تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی شدید ہو چکی ہے۔ حالیہ حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے اس نوعیت کے میزائل تجربات عام طور پر پہلے سے طے شدہ پروگرام کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم موجودہ جنگی ماحول میں ایسے تجربات عالمی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں اور انہیں دفاعی طاقت کے مظاہرے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے جوہری ہتھیاروں کے نظام کو مسلسل اپ گریڈ اور جانچتا رہتا ہے تاکہ کسی ممکنہ جوہری خطرے کی صورت میں فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار رکھی جا سکے۔



