غزہ میں تازہ اسرائیلی کارروائیاں، ہلاکتوں میں اضافہ؛ شہریوں کا اعلان: غزہ نہیں چھوڑیں گے

غزہ میں آج اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں جانی نقصان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ مقامی طبی اور سول ڈیفنس ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں میں بمباری اور فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 18 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو محدود سہولیات کے باوجود قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق رہائشی علاقوں کے قریب دھماکوں سے عمارتوں کو نقصان پہنچا اور کئی خاندان بے گھر ہو گئے۔ انسانی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل حملوں کے باعث غزہ میں پہلے سے کمزور طبی اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ سرحدی علاقے میں نام نہاد ییلو لائن کے قریب معمول کی گشت کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں ایک اسرائیلی فوجی افسر زخمی ہوا۔ فوج کے بیان کے مطابق فائرنگ مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی جانب سے کی گئی، جس کے بعد سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے۔

اسی دوران ایک اہم انسانی پیش رفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ کچھ غزہ کے شہری مصر سے واپس غزہ پہنچ گئے ہیں۔ واپس آنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید حالات کے باوجود وہ اپنا علاقہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ ایک شہری نے کہا، “ہم غزہ چھوڑ کر نہیں جائیں گے، یہ ہمارا گھر ہے۔”

مبصرین کے مطابق حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زمینی کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے، جس کے فوری اثرات عام شہریوں پر پڑ رہے ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے ایک بار پھر شہریوں کے تحفظ اور فوری جنگ بندی کی اپیلیں دہرائی جا رہی ہیں، تاہم زمینی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔



