
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران یہ تاثر تیزی سے پھیل رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے اور ایران پر مکمل فضائی برتری (Air Supremacy) ابھی تک حاصل نہیں کی جا سکی۔
فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں اتحادی افواج کو مقامی سطح پر فضائی برتری ضرور حاصل ہے، لیکن ایران کے پورے فضائی نظام کو مکمل طور پر غیر مؤثر قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ ایران کے پاس اب بھی متحرک فضائی دفاعی نظام موجود ہیں جو کسی بھی وقت مختلف علاقوں میں نمودار ہو سکتے ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی افواج نے ابتدائی مرحلے میں زیادہ تر طویل فاصلے سے حملے (Standoff Strikes) کیے، جن میں میزائل اور کروز ہتھیار دشمن کی حدود سے باہر رہ کر داغے جاتے تھے۔ تاہم اب جنگ کے نئے مرحلے میں اتحادی افواج براہِ راست فضائی حملوں (Direct Strikes) کی طرف بڑھ رہی ہیں، جس کے ذریعے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
فوجی حکام کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد ایران کے زیرِ زمین فوجی مراکز، میزائل لانچ سائٹس اور ڈرون تنصیبات کو زیادہ مؤثر انداز میں تباہ کرنا ہے۔ اس مرحلے میں JDAM جیسے جدید گائیڈڈ بم اور دیگر بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں جو مضبوط اور زیرِ زمین اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ براہِ راست فضائی حملوں سے حملوں کی شدت اور تعداد میں اضافہ ممکن ہوتا ہے، تاہم اس کے ساتھ خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ایران کے پاس ایسے متحرک فضائی دفاعی نظام موجود ہیں جو مختلف مقامات پر اچانک ظاہر ہو سکتے ہیں اور حملہ آور طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خاص طور پر ایسے میزائل سسٹمز جو انفراریڈ یا الیکٹرو آپٹیکل سینسرز استعمال کرتے ہیں، انہیں روکنا زیادہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ روایتی ریڈار جیمنگ سے متاثر نہیں ہوتے۔ اس طرح کے سسٹمز حملہ آور طیاروں کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کا فضائی دفاعی نظام اگرچہ کئی حملوں کے بعد کمزور ضرور ہوا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی طیارے اب بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں۔
ان کارروائیوں کے دوران F-16 اور F-35 جیسے طیارے دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جبکہ الیکٹرانک وارفیئر اور جاسوسی طیارے بھی اس مہم میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا مشرقی حصہ اب بھی نسبتاً زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے کیونکہ زیادہ تر حملے ملک کے مغربی علاقوں میں کیے گئے ہیں۔ اس لیے وہاں فضائی کارروائیاں نسبتاً زیادہ خطرناک ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف جاری فضائی مہم میں بغیر پائلٹ ڈرونز، خاص طور پر MQ-9 ریپر جیسے طیاروں کا بھی بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ ڈرون طویل وقت تک فضا میں رہ کر دشمن کے اہداف کی نگرانی اور حملے دونوں انجام دے سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس دنیا کی جدید ترین فضائی جنگی صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن کسی بھی بڑے ملک کے خلاف فضائی جنگ میں مکمل برتری حاصل کرنا ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔
اسی لیے ماہرین کے مطابق ایران کی فضائی حدود کو مکمل طور پر محفوظ یا کنٹرول میں قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا، جبکہ آنے والے دنوں میں فضائی جنگ کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔



