ایرانتازہ ترینترکیمشرق وسطی

ایران پر ممکنہ امریکی حملہ: حوثیوں کی دھمکی، امریکی تذبذب اور اسرائیلی تجزیے

مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے گرد بڑھتی کشیدگی کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر فریقوں کی جانب سے بھی سخت ردِعمل کے اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ عبرانی میڈیا رپورٹس اور امریکی و اسرائیلی تجزیہ کاروں کے بیانات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف فوجی اقدام کیا تو اس کے اثرات محدود نہیں رہیں گے۔

عبرانی خبر رساں ادارے کان نیوز ایجنسی کے مطابق یمن کے حوثی تحریک نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو وہ خطے میں موجود امریکی جہازوں کو نشانہ بنائیں گے۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان بحیرۂ احمر اور خلیجی پانیوں میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جہاں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پہلے ہی دباؤ میں ہے۔

اسی دوران ایک دوسرے اسرائیلی تجزیہ کار نے رائے دی ہے کہ امریکا کے پاس ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کوئی واضح اور قابلِ عمل حکمتِ عملی موجود نہیں۔ ان کے مطابق نہ تو ایران کے اندر ایسی مضبوط اپوزیشن ہے جو فوری طور پر نظام بدل سکے، اور نہ ہی واشنگٹن ایک طویل، مہنگی اور غیر یقینی جنگ میں الجھنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی فوجی کارروائی ہوتی بھی ہے تو وہ محدود نوعیت کی ہو گی، کیونکہ حقیقی تبدیلی کے لیے طویل المدتی اور وسیع مہم درکار ہو گی، جس سے امریکا فی الحال گریز کر رہا ہے۔

امریکی مؤقف کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی اہلکار کے بیان کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایران کو لیبیا کی طرح عدم استحکام کا شکار نہیں کرنا چاہتا۔ اہلکار کے مطابق واشنگٹن ماضی کی مثالوں، خصوصاً معمر قذافی کے بعد لیبیا میں پیدا ہونے والی افراتفری، کو مدنظر رکھتے ہوئے طاقت کے استعمال میں احتیاط اور سمجھداری سے کام لینا چاہتا ہے۔

ادھر اسرائیلی تجزیہ کار یاکوف بارڈوگو نے چینل 14 ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ عوامی طور پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر ان کا تاثر ہے کہ ٹرمپ آیت اللہ کی حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ کر چکے ہیں، چاہے یہ کسی معاہدے کے ذریعے ہو یا فوجی دباؤ کے نتیجے میں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اعلیٰ سطحی خفیہ گفتگو کی تفصیلات جاننے کے دعوے درست نہیں۔

بارڈوگو کے مطابق خطہ اس وقت انتہائی نازک مرحلے میں ہے اور کسی بڑے واقعے، جیسے سائبر حملہ یا محدود فوجی کارروائی، کا امکان موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی موجودہ قیادت شدید دباؤ میں ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ حالات کا رخ فوری طور پر واضح ہو جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا مجموعی طور پر کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا کھلے تصادم سے بچنے کی بات کر رہا ہے، لیکن ایران، حوثیوں اور اسرائیلی خدشات نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کسی بھی محدود اقدام کا ردِعمل وسیع ہو سکتا ہے، جس سے پورا خطہ ایک نئی اور غیر یقینی کشیدگی میں داخل ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button