
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )تہران: ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی یا مذاکرات کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج نے زمینی حملہ کیا تو تہران اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے اور ایسے حملے کے نتائج امریکہ کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق تہران کو یقین ہے کہ وہ کسی بھی زمینی حملے کا مؤثر جواب دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ بندی کی درخواست نہیں کر رہا اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ماضی کے تجربات کی وجہ سے ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر اعتماد نہیں رہا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا جبکہ ایرانی قیادت اور فوجی تنصیبات بھی نشانہ بنی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں خلیجی ممالک میں موجود بعض امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل اشارہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ اسی دوران امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فضائی اور فوجی دباؤ میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگی صورتحال نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جب مذاکرات جاری تھے اسی دوران حملے کیے گئے، جس کے باعث اعتماد کا ماحول ختم ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا سخت موقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جبکہ خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔



