ایرانتازہ ترین

ایران کے خلاف حملوں میں اضافہ، امریکہ برطانوی فوجی اڈوں سے کارروائیاں تیز کرنے کی تیاری میں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )واشنگٹن / لندن: ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے اپنی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اشارہ دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف فضائی حملوں میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اس مقصد کے لیے برطانیہ کے فوجی اڈوں کو بھی استعمال کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں مزید جنگی طیارے، بمبار اور دفاعی صلاحیتیں شامل کرنے جا رہا ہے۔ ان کے مطابق “ایران اور تہران کے اوپر موجود امریکی فائر پاور میں نمایاں اضافہ ہونے والا ہے۔”

اطلاعات کے مطابق امریکہ کو برطانیہ کے بعض فوجی اڈوں تک رسائی مل گئی ہے، جن میں بحرِ ہند میں واقع ڈیگو گارسیا کا اسٹریٹجک اڈہ بھی شامل ہے۔ ابتدا میں برطانیہ کی جانب سے اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں محدود سطح پر اجازت دے دی گئی۔

ادھر اسرائیل اور امریکہ نے اپنی مشترکہ فوجی مہم کے اگلے مرحلے میں ایران کے اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جمعہ کی صبح تہران اور لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بھی فضائی حملے کیے گئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق تقریباً 50 اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایران میں ایک زیرِ زمین بنکر کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر ایرانی قیادت کے استعمال کے لیے بنایا گیا تھا۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس کمپلیکس کو ایرانی اعلیٰ حکام بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لبنان کے مشرقی علاقے بقاع وادی میں بھی شہریوں کو انخلا کی ہدایت جاری کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق وہاں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اسی دوران عراق کے کردستان ریجن میں ایک امریکی کمپنی کے زیرِ انتظام آئل فیلڈ پر ڈرون حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد وہاں تیل کی پیداوار عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق حملے میں تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ممکنہ اضافہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اگر یہ کارروائیاں وسیع پیمانے پر جاری رہتی ہیں تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں، سلامتی اور سفارتی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button