امریکاایرانتازہ ترینمشرق وسطی

سابق برطانوی انٹیلی جنس چیف کی تنبیہ: ایران کے خلاف جنگ غیر ضروری، صورتحال قابو سے باہر جا سکتی ہے

تازہ حالات رپورٹ

برطانیہ کی خفیہ ایجنسی کے ایک سابق سربراہ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی جنگ نہ صرف غیر ضروری ہو سکتی ہے بلکہ اس کے نتائج خطے اور دنیا کے لیے خطرناک حد تک بے قابو بھی ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں سابق برطانوی انٹیلی جنس سربراہ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات اور سیاسی کشیدگی کا شکار ہے، ایسے میں ایران کے خلاف براہِ راست جنگ پورے خطے کو بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ تنازعہ شروع ہوا تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیج فارس، یورپ اور عالمی توانائی کی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے پاس میزائل، ڈرونز اور خطے میں اتحادی گروہوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے، جو کسی بھی ممکنہ جنگ کو وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس صورت میں خلیج فارس کی اہم آبی گزرگاہیں، توانائی کی تنصیبات اور امریکی و مغربی مفادات بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور ایران کی عسکری تیاریوں نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو محدود فوجی کارروائی بھی بڑے پیمانے کے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

سابق انٹیلی جنس سربراہ نے زور دیا کہ عالمی طاقتوں کو جنگ کے بجائے سفارتی حل اور مذاکرات کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک اور بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔

مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں کسی بھی غلط اندازے یا اچانک فوجی کارروائی کے نتیجے میں خطہ ایک ایسے تنازعے میں داخل ہو سکتا ہے جس کے اثرات عالمی سیاست، توانائی کی فراہمی اور معیشت پر طویل عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button