امریکاایرانتازہ تریندفاعمشرق وسطی

ٹرمپ نے ایران میں محدود امریکی زمینی دستوں کی تعیناتی پر غور کیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق ممکنہ جنگی منظرناموں کے تناظر میں محدود امریکی زمینی دستوں کی تعیناتی کے امکان پر بھی غور کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تجویز کسی وسیع فوجی قبضے کے بجائے مخصوص اسٹریٹجک مقاصد کے لیے زیرِ بحث آئی تھی۔

ذرائع کے مطابق امریکی حکام کے درمیان ہونے والی ان ابتدائی گفتگوؤں میں اس بات پر غور کیا گیا کہ اگر ایران کے ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کے بعد کوئی نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے تو محدود تعداد میں امریکی فوجی تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ مبینہ طور پر ان دستوں کا مقصد حساس تنصیبات، خاص طور پر جوہری مواد یا اہم اسٹریٹجک مقامات کی حفاظت کو یقینی بنانا ہو سکتا تھا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی پالیسی ساز اس بات سے بھی آگاہ تھے کہ ایران جیسے بڑے اور جغرافیائی طور پر پیچیدہ ملک میں وسیع پیمانے پر زمینی جنگ انتہائی مہنگی اور طویل ہو سکتی ہے۔ اسی لیے زیرِ بحث منصوبوں میں بڑے پیمانے کے فوجی حملے یا طویل قبضے کے بجائے محدود اور مخصوص آپریشنز کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران میں کسی بھی قسم کی زمینی فوجی کارروائی خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی طاقتوں بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا کے ممکنہ فوجی آپشنز پر مسلسل غور کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم کسی بھی حتمی فیصلے کا انحصار سیاسی حالات، سفارتی پیش رفت اور علاقائی ردعمل پر ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود سفارتی راستوں کی اہمیت برقرار ہے، کیونکہ خطے میں بڑے پیمانے کی جنگ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button