ایرانتازہ ترین

ایران کا مستقبل کیا ہوگا؟ مشرقِ وسطیٰ کے ماہر صحافیوں کا اہم تجزیہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران۔امریکہ۔اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں عالمی مبصرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ موجودہ بحران کا خطے اور عالمی سیاست پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز سے وابستہ سینئر صحافی جان ڈیوسن اور ایڈمنڈ بلیئر نے ایک خصوصی گفتگو میں ایران کی موجودہ صورتحال اور ممکنہ مستقبل پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔

ان دونوں صحافیوں کو مشرقِ وسطیٰ میں کئی دہائیوں تک رپورٹنگ کا تجربہ حاصل ہے اور وہ ایران، عراق اور خطے کے دیگر ممالک کی سیاسی و عسکری صورتحال پر قریبی نظر رکھتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیاں حالیہ برسوں کی سب سے بڑی اور منظم کارروائیوں میں شمار کی جا رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال کا موازنہ ماضی کی بڑی جنگوں اور مداخلتوں سے بھی کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوجی کارروائیاں کسی حد تک فوری نتائج دے سکتی ہیں، لیکن طویل مدت میں خطے کے سیاسی توازن اور سلامتی پر اس کے اثرات زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے گزشتہ برسوں میں خطے میں مختلف اتحادی گروہوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کی تھی، تاہم موجودہ کشیدگی کے دوران بعض گروہوں کی جانب سے براہِ راست جنگ میں شامل ہونے کے حوالے سے محتاط رویہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ایران کی علاقائی حکمت عملی کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خطے کے سرحدی علاقوں میں نئی جغرافیائی اور سیاسی تبدیلیوں کے امکانات پر بھی بحث جاری ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسی کسی بھی پیش رفت کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی طاقتوں کے تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے مستقبل کا انحصار صرف فوجی صورتحال پر نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات، داخلی استحکام اور عالمی سفارتی کوششوں پر بھی ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button