ایرانتازہ ترین

ایران کشیدگی کے دوران خلیجی ممالک نے آسٹریلیا سے دفاعی مدد مانگ لی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) — مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان آسٹریلیا نے تصدیق کی ہے کہ وہ خلیجی ممالک کی جانب سے موصول ہونے والی ایک درخواست کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں ایران کے ممکنہ ڈرون اور میزائل حملوں سے بچاؤ کے لیے دفاعی فوجی تعاون مانگا گیا ہے۔

آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ کے مطابق خلیجی ممالک نے اپنی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر دفاعی مدد کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا اس معاملے کا محتاط جائزہ لے رہا ہے اور اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی کسی فیصلے پر پہنچے گا۔

وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ آسٹریلیا کسی بھی حملہ آور یا جارحانہ فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی ایران میں زمینی افواج تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق زیر غور تعاون صرف دفاعی نوعیت کا ہو سکتا ہے، جس کا مقصد خلیجی ممالک کو ڈرون اور میزائل خطرات سے بچانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

دفاعی مبصرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ میں ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث خلیجی ممالک اپنے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تناظر میں مختلف مغربی اتحادیوں سے دفاعی تعاون کی درخواستیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آسٹریلیا اس معاملے میں کسی سطح پر تعاون کرتا ہے تو یہ اقدام خلیجی خطے میں سکیورٹی تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کر سکتا ہے۔ تاہم آسٹریلوی حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے دفاعی اور سفارتی حل کی حمایت کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی عالمی طاقتوں اور اتحادی ممالک کو بھی براہِ راست متاثر کر سکتی ہے، اور آنے والے دنوں میں خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید اہم سفارتی فیصلوں کا تقاضا کر سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button